افغانستان کا مالیاتی نظام تباہ ہونے کا اندیشہ: اقوام متحدہ

   

سال کے آخر تک افغانستان کے ڈپازٹ بیس کا تقریباً 40% ختم ہوجائے گا

نیویارک؍کابل : اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ افغانستان میں عوام کی جانب سے قرضوں کی ادائیگی میں ناکامی، کم ڈپازٹس، نقد رقم کی کمی کی وجہ سے مالیاتی نظام تباہ ہو سکتا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادار ے کے مطابق افغانستان میں بینکنگ، مالیاتی نظام کے بارے میںجاری رپورٹ میں کہا گیا ہے افغان بینکوں کو سہارا دینے کیلئے فوری اقدامات کی ضرورت ہے، افغانستان میں مالیاتی نظام کی تباہی کے معاشی سماجی اثرات خطرناک ہونگے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغانستان کا مالیاتی اور بینک ادائیگی کا نظام درہم برہم ہے، موجودہ رجحانات کے مطابق سال کے آخر تک افغانستان کے ڈپازٹ بیس کا تقریباً 40 فیصد ختم ہوجائے گا۔اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ میں افغان بینکنگ سسٹم کو بچانے کیلیے ڈپازٹ انشورنس اسکیم، مختصر، درمیانی مدت کی ضروریات کے لیے مناسب لیکویڈیٹی یقینی بنانے، کریڈٹ گارنٹی اور قرضوں کی ادائیگی میں تاخیر کا اختیار دیے جانے کی تجاویز پیش کی ہیں۔دریں اثناء افغان طالبان نے اداکاراوں پر پابندی لگادی۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق افغان طالبان کی جانب سے ٹیلی ویژن پروگرامز سے متعلق نئی گائیڈ لائنزجاری کی گئی ہیں۔ طالبان نے ٹی وی ڈراموں اور فلموں میں اداکارائوں کو دکھانے پر پابندی لگادی جب کہ خواتین رپورٹرز کو رپورٹنگ کے دوران حجاب پہننے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ مذہب کی توہین کرنے والے کامیڈی اور انٹرٹینمنٹ کے پروگراموں کو ممنوع قرار دے دیا گیا ہے۔طالبان کا کہنا ہے کہ غیر ملکی ثقافت کو فروغ دینے والی غیر ملکی فلمیں بھی نشر نہیں کی جائیں گی، اسلامی اور افغان اقدار کے منافی پروگرامز اور فلموں پرپابندی عائد کردی جائے گی۔