پاکستان کی جوابی کارروائی ، 22 طالبان ہلاک، متعدد ٹھکانے تباہ‘ افغانستان نے تردید کردی
کابل ۔26؍فروری ( ایجنسیز ) افغانستان کی طالبان حکومت نے پاک۔ افغان سرحد پرپاکستانی فوجی ٹھکانوں پر حملہ کردیا جو گذشتہ ہفتہ پاکستانی حملہ کا جواب ہے۔طالبان حکام نے یہ بات کہی ۔افغانستان فوج کے میڈیا آفس نے بتایا کہ جمعرات کو رات دیر گئے بھاری مد بھیڑ شروع ہوئی جو پاکستان کی جانب سے ننگرہار اور پتکیا صوبوں میں کئی گئی فضائی کارروائی کا جواب ہے۔طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایکس پر اپنے پوسٹ میں بتا یا کہ ڈورنڈ لائن کے ساتھ پاکستان کے فوجی ٹھکانوں اور تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے بتا یا کہ افغان فوج نے کئی فوجیوں کو ہلاک کیا اور کئی فوجیوں کو زندہ پکڑا گیا ہے ۔انہوں نے بتا یا کہ15اوٹ پوسٹس پر قبضہ بھی کرلیا گیا ہے۔ افغانستان کی بلااشتعال کارروائیوں کے خلاف پاکستان نے آپریشن غضب للحق شروع کردیا۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق پاکستانی سکیورٹی فورسز کی جوابی کارروائی سے افغان طالبان کے متعدد ٹھکانے تباہ ہوگئے اور خوارج بھاگ کھڑے ہوئے۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان نے پاک افغان سرحد کے مختلف مقامات پر فائرنگ کی، پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے جواب میں ناوگئی سیکٹر باجوڑ، تیراہ خیبر میں بھرپور جواب دیا، چترال سیکٹر پر افغان طالبان کی چیک پوسٹ کو پاکستانی سکیورٹی فورسز نے نشانہ بنا کر تباہ کردیا۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق سکیورٹی فورسز نے باجوڑ میں افغان طالبان کی 2 چوکیاں تباہ کر دیں، افغان طالبان حکومت کے 22 اہلکاروں کے ہلاک ہونے کی مصدقہ اطلاعات ہیں۔دوسری طرف مشرقی افغانستان میں فوج کے ترجمان وحید اللہ محمدی نے کہا کہ تاحال افغانستان کے طرف کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ افغان طالبان نے کواڈ کاپٹر کے ذریعے پاکستانی سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں پر حملے کی ناکام کوشش کی۔ پاکستانی سکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی سے تمام کواڈ کاپٹرز گرا دیے گئے۔ پاکستان کی سکیورٹی فورسز کی جانب سے چھوٹے اور بڑے ہتھیاروں کے ذریعے گولہ باری جاری ہے، ڈرونز کے ذریعے بھی چن چن کر افغان طالبان کی پوسٹوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔سکیورٹی ذرائع کے مطابق افغان طالبان کے میڈیا اور سوشل میڈیا پر جھوٹے دعوے اور فیک ویڈیوز کی بھرمار ہے۔ پاکستان کی سکیورٹی فورسز سرحد کی حفاظت کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔پاکستان کی سکیورٹی فورسز کسی بھی قسم کی جارحیت کیخلاف سخت اور فوری جواب دینے کیلئیمکمل طورپر تیار ہیں۔دونوں ملکوں کی ڈورنڈلائن کے ساتھ2611کلو میٹر سرحد ہے تاہم افغانستان نے رسمی طور پر اسے تسلیم نہیں کیا ہے ۔حالیہ عرصہ میں دونوں ممالک کے تعلقات سرحد پر دہشت گردی کے واقعات پر کشیدہ ہوگئے ۔ پاکستان کا الزام ہے کہ افغانستان ان گروپس کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام ہوگیا جو پاکستان میں حملے کررہے ہیں جبکہ افغانستان ان الزامات سے انکار کررہا ہے ۔
نکسلائٹس کے ساتھ تصادم، دو ماؤنواز ہلاک
بیجاپور، 26 فروری (یو این آئی) چھتیس گڑھ کے ضلع بیجاپور کے اندراوتی ندی علاقے میں آج سکیورٹی فورسز اور نکسلیوں کے درمیان مڈبھیڑ میں دو وردی پوش ماؤنواز ہلاک ہوگئے۔ جائے وقوعہ سے کثیر مقدار میں اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد برآمد ہوئے ہیں۔ یہ انکاؤنٹر اس وقت ہوا جب مشترکہ سکیورٹی ٹیم ماؤنواز مخالف آپریشن پر تھی۔ بیجاپور کے پولیس سپرنٹنڈنٹ نے بتایا کہ ماؤنوازوں کی موجودگی کی درست اطلاع ملنے کے بعد مشترکہ ٹیم تشکیل دی گئی اور اسے آپریشن پر روانہ کیا گیا۔