نئی دہلی، 15 فروری (آئی اے این ایس) کھیلوں میں بعض اوقات شکست سے زیادہ شکست کا انداز تکلیف دیتا ہے۔ افغانستان کرکٹ ٹیم نے اس کڑوی حقیقت کا تجربہ گزشتہ ہفتے احمد آباد میں کیا، جب جنوبی افریقہ کرکٹ ٹیم کے خلاف 188 رنزکے بظاہر آسان ہدف کا تعاقب چند گیندوں میں بکھرگیا اور وہ ڈبل سوپر اوور کے ذریعہ اپنے ہاتھ میں آئی ہوئی کامیابی گنوا بیٹھی ۔ اب چار روز کے وقفے میں مکمل غور و فکر کے بعد افغانستان کو پیرکی صبح متحدہ عرب امارات کرکٹ ٹیم کے خلاف گروپ ڈی کے میچ میں ارون جیٹلی اسٹیڈیم میں بڑی جیت درکار ہے تاکہ وہ 2026 مینز ٹی20 ورلڈ کپ سے جلد اخراج سے بچ سکیں۔ دونوں ٹیمیں ٹی20 انٹرنیشنلز میں 14 بار آمنے سامنے آ چکی ہیں، جن میں افغانستان نے 11 جبکہ یو اے ای نے تین میچ جیتے ہیں۔ دونوں ٹیمیں پہلے کبھی آئی سی سی ٹی20 ورلڈکپ میں مقابلہ نہیں کیا، اس لیے پیر کا مقابلہ اس ٹورنمنٹ کی تاریخ میں ان کی پہلی ملاقات ہوگا۔ آخری پانچ مقابلوں میں افغانستان کو یو اے ای پر 4-1 کی برتری حاصل ہے، جو راشد خان کی قیادت والی ٹیم کے لیے حوصلہ افزا ہے۔ 2024 ایڈیشن میں سیمی فائنل تک پہنچنے کے بعد افغانستان کو نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم اور جنوبی افریقہ سے شکست نے ایسی صورت حال میں ڈال دیا ہے کہ انہیں نہ صرف جیتیں بلکہ دیگر میچوں کے موافق نتائج بھی درکار ہیں، ایسے ریاضیاتی امکانات جوکبھی کبھار پورے ہوتے ہیں مگر اکثر نہیں۔ نتائج سے زیادہ تشویش ناک شکست کا انداز رہا ہے۔ خاص طور پر جنوبی افریقہ کے خلاف میچ میں افغانستان پورے مقابلے میں زیر نہیں تھا بلکہ اہم موقع پرقابوکھو بیٹھا۔ رحمان اللہ گرباز کریز پر شاندار نظرآ رہے تھے اور افغانستان کو ٹورنمنٹ کی پہلی جیت دلانے کے قریب تھے۔ ہدف باآسانی حاصل ہو سکتا تھا مگر اچانک وکٹیں گرنے سے کامیابی ہاتھ سے نکل گئی اور ٹیم کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ افغانستان کے تھنک ٹینک کی ترجیح بیٹنگ کی کمزوریوں کو دورکرنا اور لگاتار وکٹیں گرنے کے رجحان کو روکنا ہوگی، جو شدید دباؤ پیدا کرتا ہے۔ یہ حکمت عملی میں ایک ہلکی مگر اہم تبدیلی ہو سکتی ہے اس ٹیم کے لیے جو جرات مندانہ اسٹروک پلے کے لیے مشہور رہی ہے۔ اس صورتحال میں گربازکی اچھی فارم نہ صرف پیر کے میچ بلکہ اگلے مرحلے میں پہنچنے کی کمزور امیدوں کے لیے بھی فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ بولنگ، خاص طور پر آخری اوورز میں، افغانستان کی بڑی کمزوری بن گئی ہے۔ اس ٹورنمنٹ میں انہوں نے اوورز17 تا 20 میں 72 رنز دیے ہیں، جس کی اکانومی 12.3 ہے، جو ٹورنمنٹ کی بلند ترین میں سے ایک ہے۔ صرف عمان کرکٹ ٹیم اورکینیڈا کرکٹ ٹیم اس مرحلے میں افغانستان سے زیادہ مہنگے ثابت ہوئے ہیں۔