افغان طالبان کی حکومت پر عائد امریکی پابندیوں پر نظرثانی کے مطالبات کا مثبت اثر
واشنگٹن: امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکا، اقوامِ متحدہ کی کئی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر افغان معیشت میں سرمایہ داخل کرنے کے راستوں پر غور کر رہا ہے۔وائٹ ہاؤس کی بریفنگ میں ہونے والا یہ اعلان گزشتہ روز اسلام آباد میں محکمہ خارجہ کے ایک اہلکار کے بیان کے بعد سامنے آیا۔اس بیان میں کہا گیا تھا کہ امریکہ ، افغانستان پر عائد معاشی پابندیوں میں بڑی حد تک لچک کا مظاہرہ کرے گا۔رواں ہفتے 39 امریکی قانون سازوں نے امریکی سیکریٹری خارجہ اور سیکریٹری خزانہ کو خط لکھا تھا جس میں ان سے افغانستان کے منجمد اثاثے بحال کرنے اور افغان معیشت کی تعمیر نو میں مدد کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے واشنگٹن میں بریفنگ کے دوران کہا کہ ’ہم یو این ڈی پی سمیت اقوام متحدہ کے مختلف اداروں کے ساتھ کام کر رہے ہیں تاکہ افغان معیشت میں سرمایہ داخل کرنے اور انسانی امداد پہنچانے کے مختلف راستے تلاش کیے جاسکیں‘۔ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکہ نے گزشتہ ہفتے ورلڈ بینک فنڈ کی جانب سے 28 کروڑ ڈالر کی انسانی امداد جاری کرنے کی حمایت کی تھی۔انہوں نے کہا کہ اگست کے بعد سے امریکا، افغانستان کے لیے 20 کروڑ 80 لاکھ ڈالر کی انسانی امداد بھیج چکا ہے، یوں رواں سال افغانستان کے لیے امریکا کل 47 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کی امداد کر چکا ہے۔امریکی اہلکار نے اس بات کو تسلیم کیا کہ اس وقت افغانستان کو انسانی امداد سے بڑھ کر مدد کی ضرورت ہے اور اسی وجہ سے امریکی محکمہ خزانہ نے 15 اگست کے بعد افغانستان پر عائد ہونے والی پابندیوں میں نرمی کی ہے۔امریکہ کی جانب سے افغانستان پر اپنے مؤقف پر لچک کا اظہار افغان طالبان کی حکومت پر عائد پابندیوں پر نظر ثانی کے متعدد مطالبوں کے بعد سامنے آیا۔ان پابندیوں کے دورانامریکہ نے افغانستان کے اثاثوں اور قرضوں پر مشتمل ساڑھے 9 ارب ڈالر بھی منجمد کر دیے تھے۔اس اقدام سے مالی امداد پر منحصر افغان معیشت کو شدید دھچکا لگا تھا، ساتھ ہی اس کی وجہ سے 4 دہائیوں طویل خانہ جنگی اور خشک سالی سے پیدا ہونے والے انسانی بحران میں شدت آگئی تھی۔