ڈوال اور روسی سکیوریٹی چیف کی میٹنگ ،طالبان کو عصری ہتھیاروں کی دستیابی پر اظہارتشویش
نئی دہلی: قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوال اور روسی سکیورٹی چیف نیکولے پتروشیف نے افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام کے درمیان آج یہاں افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ وزارت خارجہ اور دفاع کے سینئر عہدیدار بھی اس اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں جو ہندوستان۔روس بین الحکومتی مشاورت کے تحت منعقد ہو رہا ہے ۔پترشیف یہاں دو روزہ دورے پر ہیں جن کے ساتھ روسی وزارتوں اور محکموں کے وفود ان کے ہمراہ ہیں۔روسی سفارت خانے نے ٹویٹ کرتے ہوئے بتایا کہ روس اور ہندوستان کے درمیان یہاں سیکورٹی کے امور پر بات چیت کی جا رہی ہے ۔ روسی سلامتی کے سربراہ نکولے پتروشیف نے ہندوستان کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوال سے بات چیت کی۔یہ ملاقات 24 اگست کو وزیر اعظم نریندر مودی اور صدر ولادی میر پیوٹن کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو کے بعد ہو رہی ہے ۔ اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے اپنے سینئر حکام سے کہا تھا کہ وہ افغانستان کی صورتحال پر مسلسل رابطے میں رہیں۔ مذاکرات کے آغاز پر روسی وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے ڈوال نے کہا کہ یہ ایک بہت ہی خاص ملاقات ہے جو مودی اور پوٹن کے درمیان ٹیلی فونک گفتگو کے بعد ہورہی ہے اور ہم اس ملاقات کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔پترشیف کی مودی اور جے شنکر سے ملاقات کی بھی توقع ہے ۔اس سے قبل روس میں ہندوستان کے سفیر وینکٹیش ورما نے بتایا کہ افغانستان کی صورتحال پورے خطے کے لیے تشویش کا باعث ہے ۔ ہندوستان اور روس وہاں کی پیش رفت سے متاثر ہیں۔ ڈوال اور پترشیف کے درمیان مذاکرات کے دوران طالبان کو تسلیم کرنے سمیت مختلف امور پر بات چیت کا امکان ہے ۔ ریا نووستی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے بتایا کہ افغانستان کی صورتحال پورے خطے کے لیے تشویش کا باعث ہے ۔ ہندوستان اور روس وہاں کی پیش رفت سے متاثر ہیں