عمارت کے تحفظ کی امید، 5 برسوں میں 90 ملین ڈالر سے تعمیر، طویل ہائی وے کی تعمیر کا اعزاز
حیدرآباد۔18 ۔اگست (سیاست نیوز) افغانستان کی موجودہ صورتحال پر یوں تو دنیا بھر میں تشویش کا اظہار کیا جارہا ہے لیکن حیدرآباد کی ایک کمپنی ایسی ہے جس کو کابل کی صورتحال کی فکر اس لئے بھی زیادہ ہے کیونکہ افغانستان کی پارلیمنٹ کی تعمیر میں اس کا اہم رول ہے ۔ ہندوستان نے افغانستان کی تعمیر نو کے تحت اپنے خرچ پر وہاں کی پارلیمنٹ کی عالیشان عمارت تعمیر کی تھی۔ تعمیری کاموں پر 90 ملین ڈالر کا خرچ آیا تھا۔ حیدرآباد سے تعلق رکھنے والی کنسٹرکشن کمپنی بی سینیا اینڈ کمپنی پراجکٹس لمٹیڈ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے افغانستان کی پارلیمنٹ کی خوبصورت عمارت کو تعمیر کیا تھا جو ہندوستان کی جانب سے افغان حکومت کے لئے کسی تحفہ سے کم نہیں۔ پارلیمنٹ کی عالیشان عمارت پر ہندوستانی پارلیمنٹ کی طرح خوبصورت گنبد تعمیر کیا گیا جو تعمیر کا ایک منفرد شاہکار ہے۔ افغانستان پر طالبان کے کنٹرول اور پارلیمنٹ پر قبضہ کے بعد کمپنی کے ذمہ داروں کو اس بات کی تشویش لاحق ہے کہ کہیں ان کی تعمیر کردہ خوبصورت عمارت کو نقصان نہ پہنچے۔ بی سینیا اینڈ کمپنی کے ذمہ داروں کو آج بھی وہ لمحات یاد ہیں جو انہوں نے تعمیر کے وقت کابل میں گزارے تھے۔ پارلیمنٹ ہاؤز کی تعمیر پر پانچ سال کا وقت لگا اور افغانستان کی سب سے خوبصورت سرکاری عمارت کے طور پر اس کی شناخت ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے 2015 ء میں افغانستان کا دورہ کیا اور پارلیمنٹ کی نئی عمارت کا افتتاح کیا تھا۔ کمپنی کے مینجنگ ڈائرکٹر سینیا نے ان دنوں کو یاد کیا جب آندھراپردیش اور تلنگانہ کے تقریباً 300 تعمیری ورکرس افغانستان کے کئی تعمیری پراجکٹس میں شامل تھے۔ تلگو ریاستوں کے تعمیری ورکرس نے کابل براہ قندھار ہیرات تک 600 کیلو میٹر ہائی وے کی تعمیر میں اہم رول ادا کیا۔ افغانستان کی تاریخ میں یہ اب تک کی سب سے بڑی سڑک تھی۔ ابتداء میں سڑک کی تعمیر کا کام چین کی ایک کمپنی کو دیا گیا تھا لیکن اس نے درمیان میں کام چھوڑ دیا جس کے بعد سینیا اینڈ کمپنی نے یہ ذمہ داری قبول کی۔ تعمیری کاموں کے لئے ساری مشنری افغانستان کے باہر سے منتقل کی گئی ۔ مشنری کو روزانہ ورک سائیڈ سے ورکرس کے کیمپس منتقل کرنے میں 50 کیلو میٹر کا فاصلہ تھا۔ تعمیری کاموں کے اضافی اخراجات کی پابجائی امریکی حکومت کی جانب سے کی گئی ۔ کمپنی کے عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ورکرس کیلئے غذاء کی فراہمی کوئی مسئلہ نہیں تھا لیکن افغانستان کا موسم ورکرس کے لئے کسی چیلنج سے کم نہیں تھا ۔ دن کے اوقات میں موسم گرم ہوتا جبکہ رات میں 4 ڈگری تک پہنچ جاتا۔ بعض علاقوں میں طالبان کے حملہ کا خطرہ برقرار رہتا تھا۔ کمپنی نے 40 کروڑ مالیتی مشنری افغانستان میں منتقل کی تھی ۔ ان کا کہنا ہے کہ مشنری کیلئے کوئی بھی کمپنی انشورنس کیلئے تیار نہیں تھی جس کے بعد امریکی کنٹراکٹر نے تحریری طور پر تیقن دیا کہ نقصان کی صورت میں پابجائی کی جائے گی۔ پارلیمنٹ کی تعمیر کیلئے تمام تعمیری اشیاء افغانستان کے باہر سے حاصل کی گئی ۔ مقامی افراد کا سلوک بہتر اور دوستانہ رہا۔ طالبان نے دو ورکرس کا اغواء کرلیا تھا جنہیں بعد میں رہا کیا گیا۔ کمپنی کو امید ہے کہ طالبان پارلیمنٹ کی عمارت اور اس کی خوبصورتی کو برقرار رکھیں گے ۔ پارلیمنٹ کے احاطہ میں قیمتی صوفوں اور کرسیوں پر طالبان جنگجوؤں کو دیکھ کر کمپنی کے عہدیدار حیرت میں پڑگئے ۔ R
