افغانستان کے کئی علاقوں میں گھمسان کی لڑائی،350ہلاک

,

   

کابل: طالبان نے افغانستان کے صوبے نمروز کے بعد جوزجان کے دارالحکومت شبرغان پر بھی قبضہ کر لیا۔ خبر ایجنسی کے مطابق شبرغان طالبان کے کنٹرول میں جانے والا دوسرا صوبائی دارالحکومت ہے۔ خیال رہے کہ طالبان نے گزشتہ روز افغان صوبے نمروز کے دارالحکومت زرنج پر قبضہ کر لیا تھا۔ طالبان افغانستان کے 200 کے قریب اضلاع پر بھی کنٹرول حاصل کر چکے ہیں۔ افغانستان کی سرکاری فورسز کی جانب سے شروع کی گئی ایک روزہ کارروائیوں اور فضائی حملوں میں تقریباً350 طالبان ہلاک اور70 زخمی ہو گئے ہیں جبکہ ہفتہ کے اوائل میں متعدد شہروں میں جھڑپیں دوبارہ شروع ہو گئی ہیں۔ فوج کی 215 ویں میوند کور نے ایک بیان میں کہا کہ افغان فضائیہ کی حمایت یافتہ سکیورٹی فورسز کی جانب سے جنوبی صوبہ ہلمند اور مغربی صوبہ نمروز میں طالبان کے ٹھکانوں پر حملوں میں یہ طالبان ہلاک اور47 زخمی ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونیوالوں میں نمروز کیلئے طالبان کا فرضی گورنر عبدالخالق عرف آقا عابد بھی شامل ہے۔ 8 گاڑیاں،5 موٹر سائیکلیں اور ایک ہیوی گن تباہ کر دی گئی ہے۔ آرمی کور کے بیان کے مطابق اسی عرصہ کے دوران ہمسایہ صوبہ سمنگان میں19 عسکریت پسند ہلاک اور13 زخمی جبکہ شمالی صوبہ تخار میں جھڑپوں اور فضائی حملوں کے دوران 13 طالبان ہلاک اور8 دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔ کئی علاقوں میں گھمسان کی لڑائی ہورہی ہے ۔

کابل میں طالبان کا حملہ ، افغان فضائیہ کا پائلٹ ہلاک

کابل: افغان فضائیہ کا ایک پائلٹ کابل میں ہوئے بم دھماکے میں ہلاک ہو گیا ، حکام کے مطابق طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کر لی۔حکام کا کہنا ہے کہ پائلٹ حمید اللہ عظیمی اس وقت ہلاک ہو گیا جب اس کی گاڑی سے چپکنے والا بم دھماکے سے پھٹ گیا ، دھماکے میں پانچ شہری زخمی ہوئے۔ایئرفورس کے کمانڈر عبدالفتاح اسحاق زئی نے بتایا کہ حمید اللہ عظیمی کو امریکی ساختہ UH60 بلیک ہاک ہیلی کاپٹر اڑانے کی تربیت دی گئی تھی اور اس نے تقریباً چار سال تک افغان فضائیہ کے ساتھ خدمات انجام دیں۔ وہ ایک سال قبل اپنے خاندان کے ساتھ سیکورٹی خطرات کی وجہ سے کابل منتقل ہوگئے تھے۔دوسری جانب طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ہفتہ کے روز یہ حملہ طالبان نے کیا۔ طالبان نے پائلٹوں کو بیس سے باہر قتل کرنے کی مہم شروع کی ہے جبکہ طالبان نے اب تک 7افغان پائلٹوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے۔طالبان نے ایک ایسے پروگرام کی تصدیق کی ہے جس میں امریکی تربیت یافتہ افغان پائلٹوں کونشانہ بنایا اور ختم کیا جائے گا۔ امریکی اور افغان حکام کا خیال ہے کہ یہ جان بوجھ کر افغانستان میں امریکی اور نیٹو کے تربیت یافتہ فوجی پائلٹوں کی فوج کو تباہ کرنے کی کوشش ہے۔