افغانوں کی ملک بدری پر طالبان سے بات چیت جاری

   

برلن ۔ 15 ستمبر (ایجنسیز) جرمنی کے وزیر داخلہ نے افغانستان کے حکمرانوں کے ساتھ براہِ راست بات چیت کی تصدیق کی ہے تاکہ جرائم کے مرتکب افغان شہریوں کی’’باقاعدہ‘‘ ملک بدری کو ممکن بنایا جا سکے۔ جرمن وزیرِ داخلہ الیگزانڈر ڈوبرنٹ نے تصدیق کی ہے کہ جرمنی میں جرائم کے مرتکب افغان شہریوں کو ملک بدر کرنے کے لیے طالبان کے ساتھ مذاکرات ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ ملک بدری اپنے طور پر ممکن ہو، اسی لیے وزارت داخلہ کے اہلکاروں اور افغانستان کے نمائندوں کے درمیان تکنیکی رابطہ قائم رکھے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جرمن وفود نے قطر میں افغان نمائندوں کے ساتھ ’’تکنیکی مذاکرات‘‘ کیے ہیں اور آئندہ ہفتوں میں مزید ملاقاتیں ہوں گی۔ ڈوبرِنڈٹ نے مزید کہا کہ یہ تکنیکی رابطہ بالآخر اس بات کا باعث بنیں گے کہ ہم افغانستان کے لوگوں کو باقاعدگی سے ملک بدر کر سکیں۔ علاوہ ازیں، جرمن وزیر خارجہ یوہان واڈے فیہول نے بھی تصدیق کی کہ دوحہ میں ملک بدری پر بات چیت جاری ہے، اور عندیہ دیا کہ کابل میں ملاقاتیں ضروری نہیں۔ جولائی میں، جرمنی نے 81 ایسے افغان شہریوں کو افغانستان بھیجا جو جرائم میں سزا یافتہ تھے۔