واشنگٹن ۔ 12 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے یہ کہتے ہوئے کہ افغان امن مذاکرات ’’مردہ‘‘ ہوچکی ہے، سارا الزام طالبان کے سر تھوپ دیا اور یہ بھی کہا کہ مذاکرات کو ’’مردہ‘‘ کرنے کے لئے صرف اور صرف طالبان ذمہ دار ہیں اور اب طالبان پر امریکہ اتنا کرارہ وار کرے گا کہ اس سے قبل کبھی نہیں کیا گیا ہوگا۔ وائیٹ ہاؤس میں اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے طالبان پر یہ الزام عائد کیا کیونکہ گذشتہ ہفتہ کابل میں طالبان نے جو حملہ کیا تھا اس میں 12 افراد ہلاک ہوگئے تھے جن میں ایک امریکی فوجی بھی شامل تھا۔ ٹرمپ نے ایک بار پھر اخباری نمائندوں کے سامنے اپنی بات دہراتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ یاد رکھیں کہ طالبان کو ایسی زبردست چوٹ دی جانے والی ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں دی گئی۔ انہوں نے نہ صرف معصوم اور بے قصور لوگوں کو ہلاک کیا بلکہ ایک عظیم امریکی فوجی کو بھی موت کے گھاٹ اتار دیا۔ ایک طرف طالبان ایسی حرکتیں کررہے ہیں اور دوسری طرف امریکہ سے بات چیت کی باتیں کہی جاتی ہیں۔ ایسی دوغلی پالیسی اپنانے سے نہ افغانستان کا فائدہ ہوگا اور نہ طالبان کا۔ گذشتہ اتوار کو ٹرمپ افغان صدر اشرف غنی اور دیگر سینئر طالبان قائدین سے کیمپ ڈیوڈ میں ملاقات کرنے والے تھے لیکن ایسا نہیں ہوا۔