کابل 15 مارچ (سیاست ڈاٹ کام افغان حکومت نے ہفتے کے روز 1500طالبان قیدیوں کی رہائی معطل کر دی۔ یہ بات ایک افغان اہل کار نے بتائی ہے۔ اس فیصلے کے نتیجے میں طالبان اور امریکہ کے مابین گزشتہ ماہ طے پانے والا امن سمجھوتا خطرے میں پڑ سکتا ہے۔افغان قومی سلامتی کے مشیر کے دفتر کے ترجمان، جاوید فیصل نے کہا ہے کہ رہائی میں تاخیر کی جا رہی ہے، کیونکہ قیدیوں کی فہرست کا جائزہ لینے کے لیے مزید وقت درکار ہو گا۔اس فیصلے سے قبل اسی ہفتے صدر اشرف غنی کہہ چکے ہیں کہ ہفتے کے دن سے رہائی کا آغاز کر دیا جائے گا، جو بین الافغان مذاکرات شروع کرنے کے لیے نیک نیتی پر مبنی اقدام ہے۔امریکہ طالبان معاہدے کا مقصد یہ بیان کیا گیا کہ اس سے افغانستان کی لڑائی ختم کرنے میں مدد ملے گی اور تقریباً 19 برس بعد امریکی فوجیں وطن واپس آ سکیں گی۔قیدیوں کی رہائی میں تاخیر کے فیصلے کے بارے میں فوری طور پر طالبان کی جانب سے کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا۔فیصل نے کہا کہ قیدیوں کی فہرست کا جائزہ لینے کے لیے اشرف غنی کی حکومت کو مزید وقت درکار ہے۔ امریکہ طالبان سمجھوتے میں بین الافغان مذاکرات سے پہلے 5000 تک طالبان قیدی رہا کرنے اور ساتھ ہی افغان حکومت کے 1000 قیدیوں کو رہائی دینے کا اعلان کیا گیا تھا۔