افغان طالبان کے وفد کی عالمی ماحولیاتی کانفرنس میں شرکت

   

اقوام متحدہ: اقوام متحدہ کی عالمی ماحولیاتی کانفرنس سی او پی 29 میں شرکت کیلئے افغان طالبان کا ایک وفد بھی باکو پہنچ رہا ہے۔ ماضی میں افغان طالبان کی اس کانفرنس میں شرکت کی کئی کوششیں ناکام ہو گئی تھیں۔افغانستان میں طالبان حکومت کی وزارت خارجہ نے اتوار کے روز خبر رساں ایجنسی اے ایف پی اور روئٹرز کو بتایا کہ کابل کے طالبان حکام اقوام متحدہ کی ماحولیاتی کانفرنس میں شرکت کرنے جارہے ہیں، جو آذربائیجان کے دارالحکومت باکو میں شروع ہوگئی ہے۔اقوام متحدہ کی موسمیاتی تبدیلی سالانہ کانفرنس سی او پی 29 کے نام سے معروف ہے، جو آئندہ 22 نومبر تک جاری رہے گی۔ 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد یہ پہلا موقع ہو گا جب افغانستان اقوام متحدہ کی سالانہ عالمی موسمیاتی سربراہی اجلاس میں شرکت کرے گا۔طالبان کی حکومت بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ نہیں ہے اور اقوام متحدہ نے بھی جنرل اسمبلی میں افغانستان کی نشست کو طالبان کو حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی ہے۔ عالمی موسمیاتی اجلاس سی او پی 29 کے منتظمین نے سن 2021 میں افغان کی شرکت پر غور کرنے کے فیصلے کو موخر کردیا تھا، جس کے بعد سے تمام تر کوشش کرنے کے باوجود بھی طالبان دیگر حالیہ سربراہی اجلاسوں میں شرکت کرنے سے قاصر رہے تھے۔ افغانستان کے غیر سرکاری اداروں نے بھی شکایت کی تھی کہ طالبان کی واپسی کے بعد سے انہیں اس قسم کے اجلاسوں میں شرکت کے لیے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ افغان وزارت خارجہ کے ترجمان عبدالقہار بلخی نے میڈیا کو بتایا کہ افغان حکومت کا ایک وفد باکو میں شرکت کرے گا۔ تاہم اے ایف پی اور روئٹرز دونوں نے آف دی ریکارڈ ذرائع کے حوالے سے اطلاع دی ہے کہ طالبان وفد کو مکمل شریک ہونے کے بجائے صرف مبصر کا درجہ حاصل ہو گا۔
خبر رساں ادارے روئٹرز نے سفارتی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے اطلاع دی ہے کہ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ملک کی قومی ماحولیاتی ایجنسی کا وفد ممکنہ طور پر دائرہ بحث میں حصہ لے سکے گا اور ممکنہ طور پر دو طرفہ ملاقاتیں بھی کر سکے گا۔ ذرائع نے کہا کہ افغانستان کے مندوبین کو مکمل شرکاء کے طور پر معیاری اسناد دینا ممکن نہیں تھا، کیونکہ طالبان کے اقتدار کو افغانستان کی جائز حکومت کے طور پر تسلیم نہیں کیا جارہا ہے۔ طالبان عموماً مزید بین الاقوامی شناخت کے خواہاں ہیں اور انہوں نے اس سلسلے میں بعض اہم اقدام بھی کیے ہیں، جیسے طالبان وزراء کی دوحہ میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام اجلاسوں میں شرکت کے ساتھ ہی گزشتہ دو برسوں کے دوران انہوں نے چین اور وسطی ایشیا کے فورمز میں بھی شرکت کی ہے۔لیکن ان کی بنیاد پرست طرز حکمرانی، خاص طور پر خواتین اور لڑکیوں کے ساتھ ان کے تفریقی سلوک نے اب بھی طالبان کو عالمی سطح پر کم و بیش تنہا کر رکھا ہے۔
تاہم ملک کی نیشنل انوائرنمنٹل پروٹیکشن ایجنسی (این ای پی اے) کے حکام کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے موضوع پر اس کے داخلے میں سیاسی رکاوٹیں مزید کم ہونی چاہئیں۔