کابل ۔ 19 اگست (ایجنسیز) جرمن حکومت اسلام آباد پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ وہ ان 200 سے زائد افغان شہریوں کو واپس آنے کی اجازت دے جو جرمنی آنے کے منتظر تھے مگر انہیں طالبان کے زیرانتظام ان کے وطن بھیج دیا گیا تھا۔ جرمن وزارتِ خارجہ کے ترجمان یوزف ہِنٹر زیہر نے کہا ہے کہ 200 سے زیادہ افغان، جو جرمنی میں پناہ کے منتظر تھے، حالیہ دنوں میں پاکستان کی جانب سے طالبان کے زیرِ انتظام افغانستان واپس بھیج دیے گئے ہیں اور جرمن حکومت اسلام آباد پر دباؤ ڈال رہی ہے کہ انہیں واپس آنے کی اجازت دی جائے۔ بے دخل کیے گئے یہ افراد اس گروپ کا حصہ ہیں جنہیں پہلے جرمنی میں پناہ دینے کی پیشکش کی گئی تھی لیکن اب وہ جرمن چانسلر فریڈرش میرس کی سخت امیگریشن پالیسی اور پاکستان سے بڑے پیمانے پر ہونے والی بے دخلیوں کے بیچ پھنس گئے ہیں۔ ہِنٹر زیہر نے صحافیوں کو بتایا کہ پاکستانی پولیس نے حال ہی میں تقریباً 450 افغانوں کو گرفتار کیا ہے، جنہیں طالبان کی جانب سے اپنی جان کو خطرہ کے پیش نظر ایک جرمن اسکیم کے تحت پناہ دینے کے لیے تسلیم کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہماری معلومات کے مطابق ان میں سے 211 افراد کو افغانستان واپس بھیج دیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ 245 افراد کو پاکستان کے ان کیمپوں سے جانے کی اجازت دی گئی، جہاں مجوزہ بے دخلی سے قبل انہیں رکھا گیا تھا۔ جرمن وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ہم پاکستان سے بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ ان افراد کی واپسی کو ممکن بنایا جا سکے جو پہلے ہی بے دخل کیے جا چکے ہیں۔