اقامتی اسکولس میں آوٹ سورسنگ ٹیچرس کی خدمات برخواست

   

پانچ ہزار اساتذہ روزگار سے محروم، سکریٹری ٹمریز و اسپیشل سکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود بی شفیع اللہ کی بڑے پیمانے پر کارروائی
حیدرآباد۔4۔اپریل(سیاست نیوز) تلنگانہ ریاستی اقامتی اسکولوں میں خدمات انجام دینے والے اساتذہ جو آؤٹ سورسنگ پر خدمات انجام دے رہے تھے ان کی خدمات آئندہ تعلیمی سال 2026-27کے دوران حاصل نہیں کی جائیں گی!تلنگانہ میں ریاستی حکومت کی جانب سے چلائے جانے والے 204 اقلیتی اقامتی اسکولوںمیں بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں کے علاوہ طلبہ کی گھٹتی ہوئی تعداد کی متعدد شکایات کے بعد سیکریٹری ٹمریز و اسپیشل سیکریٹری محکمہ اقلیتی بہبود جناب بی شفیع اللہ آئی ایف ایس نے بڑے پیمانے پر کاروائی کرتے ہوئے ٹمریز میں خدمات انجام دینے والے 5000 سے زائد آؤٹ سورسنگ ملازمین کو خدمات سے معطل کردیا ہے اور کہا جارہاہے کہ ان کی جگہ دوسروں کے تقرر کے اقدامات کئے جار ہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ٹمریز کے اسکولوں میں موجود عارضی تدریسی عملہ کے تقرر ات جو کہ ٹمریز کے قیام کے وقت کئے گئے تھے ان میں کئی ملازمین نے ملازمت ترک کردی اور دیگر اداروں میں خدمات انجام دے رہے ہیں لیکن جو ملازمین ’ٹمریز ‘ میں خدمات انجام دے رہے ہیں انہیں فوری اثر کے ساتھ معطل کرنے کے اقدامات کے ساتھ تدریسی عملہ میں شدید ناراضگی پیدا ہونے لگی ہے ۔ سیکریٹری کے ایک حکمنامہ کے ذریعہ 5000 ملازمین کو ملازمت سے بیدخل کئے جانے کے سلسلہ میں استفسار پر ٹمریز کے صدر دفتر میں خدمات انجام دینے والے مستقل سرکاری ملازمین نے اس بات کا انکشاف کیا کہ آؤٹ سورسنگ عملہ کو 11ماہ کی تنخواہ دی جاتی ہے اور ایک ماہ کی تنخواہ ادا نہ کرتے ہوئے ان کی ملازمت کے تسلسل کو توڑنے کے اقدامات کے تحت ہر سال یہ کاروائی کی جاتی ہے لیکن اس مرتبہ تدریسی عملہ میں پائی جانے والی تشویش کے سلسلہ میں کہا جارہاہے کہ تعلیمی سال 2026-27 کے لئے ’ٹمریز‘ کے ذمہ داروں نے نئے تقررات کے اقدامات کی منصوبہ بندی کی ہے تاکہ اپنے حامیوں کے تقررات کو یقینی بنایا جاسکے۔ ٹمریز میں خدمات انجام دینے والے عملہ نے بتایا کہ ریاست بھر کے بیشتر تمام اسکولوں میں ’’آؤٹ سورسنگ‘‘ عملہ موجود ہے اور اس عملہ کو گرمائی تعطیلات کے دوران مختلف ذمہ داریاں بالخصوص داخلوں کے لئے مہم چلانے کے لئے مجبور کیا جاتا ہے لیکن انہیں تنخواہ کی اجرائی عمل میں نہیں لائی جاتی اس کے باوجود عملہ بغیر کسی شکایت کے خدمات انجام دے رہاہے لیکن اگر ان کی ملازمت کو مستقل طور پر برخواست کردیا جاتا ہے تو انہیں احتجاج کے لئے مجبور ہونا پڑے گا کیونکہ ’ٹمریز‘ میں برسوں خدمات انجام دینے کے بعد اگر انہیں فوری طور پر ملازمت سے بیدخل کرتے ہوئے بے روزگار کیا جاتا ہے تو ایسی صورت میں ان کے پاس کوئی ذرائع آمدنی نہیں رہیں گے۔اساتذہ بالخصوص آؤٹ سورسنگ پر خدمات انجام دینے والے ملازمین کی تنظیموں کے ذمہ داروں نے ریاستی حکومت بالخصوص وزیر اقلیتی بہبود جناب محمد اظہر الدین اور محکمہ اقلیتی بہبود کے اعلیٰ عہدیداروں سے اپیل کی کہ وہ ’ٹمریز ‘ کے عملہ کی معطلی اور ان کی جگہ دوسروں کے تقرر کے منصوبہ کو ترک کریں۔M3