اقامتی اسکولس کے طلبہ کورونا سے متاثر ، حکومت کا انکشاف سے گریز

   

ذرائع ابلاغ کو تفصیلات نہ بتانے کی ہدایت ، محکمہ اقلیتی بہبود کے آمرانہ احکامات
حیدرآباد۔12نومبر(سیاست نیوز) اسکولوں میں کورونا وائرس کے متاثرین پائے جانے کی صورت میں ذرائع ابلاغ کو مطلع نہ کیا جائے اور جن بچوں کو کورونا وائرس کی توثیق ہو یا جن میں علامات پائی جائیں انہیں ان کے گھر روانہ کردیا جائے۔تلنگانہ ریاستی اقلیتی اقامتی اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ اگر کورونا وائرس سے متاثر ہوتے ہیں یا ان میں علامات پائی جاتی ہیں تو ایسی صورت میں ذرائع ابلاغ کو اس بات کی اطلاع نہ دی جائے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیدارو ںکے ان آمرانہ احکامات کے سبب تلنگانہ اقلیتی اقامتی اسکولوں کے پرنسپل اور ٹمریز کے دفتر میں خدمات انجام دینے والے عہدیداروں کی جانب سے اقامتی اسکولوں کی حقیقی صورتحال سے کوئی آگاہ نہیں ہوپا رہا ہے۔ گذشتہ دنوں شہر حیدرآباد میں چلائے جانے والے تلنگانہ اقلیتی اقامتی اسکول کی ایک شاخ میں تعلیم حاصل کررہے طلباء میں کورونا وائرس کی علامتوںکے بعد انہیں ان کے گھرو ںکو روانہ کردیا گیا ہے لیکن اس سلسلہ میں تفصیلات کے حصول کے لئے کی جانے والی کوشش پر کسی بھی عہدیدار نے اس مسئلہ پر بات کرنے سے قطعی طور پر انکار کر دیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود کے اعلیٰ عہدیداروں نے اپنے ماتحتین اور اسکولوں کے ذمہ داروں کو اس بات کی ہدایت دی ہے کہ وہ اقامتی اسکولو ںمیں متاثر ہونے والے یا علامتو ںکے سبب روانہ کئے جانے والے طلبہ کی تفصیلات کا انکشاف نہ کریں ۔ شہر حیدرآبادمیں چلائے جانے والے اسکول میں طلبہ میں علامات کی توثیق کے بعد انہیں روانہ کرتے ہوئے اس بات کو راز میں رکھنے کی کوشش کی جار ہی ہے۔ والدین اور سرپرست کی جانب سے اس بات کی توثیق کی جا چکی ہے کہ 11 نومبر کو ان کے بچوں کو گھروں کو روانہ کردیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ اسکول کی مکمل صفائی اور سینیٹائز کرنے کے بعد انہیں واپس بلایا جائے گا۔ ٹمریز میں خدمات انجام دینے والے عہدیداروںسے اس سلسلہ میں بات کرنے کی کوشش پر کسی بھی عہدیدارسے رابطہ ممکن نہیں ہوسکا جبکہ اس بات کی توثیق ہوچکی ہے کہ عہدیداروں نے طلبہ میں پائی جانے والی علامات کے سلسلہ میں اطلاع کو راز میں رکھنے کی ہدایت دی ہے ۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیدارو ںکی جانب سے یہ کہا جارہا ہے کہ جو اطلاعات فراہم کی جا رہی ہیں یا جو پریس نوٹ جاری کئے جا رہے ہیں وہ اطلاع ہی عوام میں لائی جانی چاہئے جبکہ اس طرح کے آمرانہ احکام کی اجرائی کے ذریعہ حقائق کی پردہ پوشی کی کوشش کی جا رہی ہے۔م