وقف بورڈ ارکان کی اکثریت کی تائید، جائیدادوں کے تحفظ اور آمدنی میں اضافے کی امید
حیدرآباد۔ 12 ڈسمبر (سیاست نیوز) صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے کہا کہ اوقافی جائیدادوں کو وقف مافیا سے بچانے کے لیے اقامتی اسکولوں کو لیز پر وقف اراضی کرنے کی تجویز ہے۔ اس سلسلہ میں قطعی فیصلہ آئندہ ہفتے اجلاس میں کیا جائے گا۔ وقف بورڈ کے اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے محمد سلیم نے کہا کہ بورڈ کے ارکان حکومت کی تجویز کے حق میں ہیں اور مسلم رکن پارلیمنٹ کے ساتھ اجلاس منعقد کرتے ہوئے اراضی لیز پر الاٹ کرنے کے حق میں قرارداد منظور کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ وقف اراضی اسکولوں کو مفت میں الاٹ نہیں کی جارہی ہے بلکہ باقاعدہ کمیٹی تشکیل دے کر وقف ایکٹ کے مطابق لیز قواعد کی تعمیل کرتے ہوئے اراضی حوالے کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے وقف بورڈ کو یہ تجویز روانہ کی ہے۔ اوقافی جائیدادوں پر جگہ جگہ ناجائز قبضے ہیں اور اگر اسکولوں کے لیے اراضی الاٹ کی جاتی ہے تو نہ صرف اراضیات کا تحفظ ہوگا بلکہ بورڈ کو آمدنی ہوگی۔ آمدنی کی رقم غریب مسلمانوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کرنے کا منصوبہ ہے۔ انہوں نے بتایا کہ عدالتوں میں 2000 سے زائد اوقافی جائیدادوں کے مقدمات زیر دوران ہیں۔ اقامتی اسکول سوسائٹی ایک ذمہ دار سرکاری ادارہ ہے اور اسے اراضی لیز پر دیتے ہوئے اوقافی جائیدادوں کا تحفظ کیا جاسکتا ہے۔ پہلے مرحلہ میں 20 تا 25 اسکولوں کے لیے اراضی لیز پر دینے کی تجویز ہے۔ محمد سلیم کے مطابق بورڈ کے ارکان کی اکثریت حکومت کی تجویز کے حق میں ہے اور اس کے لیے باقاعدہ کمیٹی تشکیل دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ حیدرآباد اور اضلاع میں وقف اراضیات کے لیے وقف بورڈ کو تجویز حاصل ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقامتی اسکول خانگی عمارتوں میں کام کررہے ہیں جس کے لیے کروڑہا روپئے کرایہ ادا کیا جارہا ہے۔ یہی رقم وقف بورڈ کو حاصل ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بورڈ اسکولوں کی تعمیر کے لیے اراضی بہرصورت لیز پر دے گا۔ انہوں نے کہا کہ جہاں سرکاری اراضی موجود ہے وہاں حکومت نے اراضی الاٹ کی ہے جبکہ جہاں سرکاری اراضی نہ ہو وقف اراضی الاٹ کرنے تجویز ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس اور ریونیو حکام کی مدد سے اوقافی جائیدادوں کا تحفظ کیا جارہا ہے۔ جہاں کہیں بھی ناجائز قبضوں کی شکایت موصول ہو، خصوصی ٹیموں کو روانہ کرتے ہوئے جائیدادوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جارہا ہے۔ محمد سلیم نے بعض ارکان کی جانب سے اجلاس کے بائیکاٹ کی تردید کی اور کہا کہ متفقہ طور پر آئندہ ہفتے کے لیے اجلاس ملتوی کیا گیا ہے۔