مرکز سے 800 کروڑ روپئے کی امداد، وزیر داخلہ محمود علی کا بیان
حیدرآباد۔/11اپریل، ( سیاست نیوز) وزیر داخلہ محمد محمود علی نے اقلیتی اقامتی اسکولوں کی تعمیر کیلئے وقف اراضی لیز پر دینے تلنگانہ وقف بورڈ کے فیصلہ کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے اس سلسلہ میں صدرنشین وقف بورڈ کے ارکان کو مبارکباد پیش کی۔ محمود علی نے کہا کہ کسی بھی قوم کی ترقی کا دارومدار تعلیم پر ہوتا ہے۔ وہی قوم ترقی کرتی ہے جو تعلیم میں آگے رہے۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر نے مسلمانوں کی تعلیمی پسماندگی کے خاتمہ کیلئے 204 اقامتی اسکولس اور 12 اقامتی جونیر کالجس قائم کئے جہاں 75 ہزار سے زائد طلبہ مفت قیام و طعام کے ساتھ معیاری تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ اسکولس اور کالجس کرایہ کی عمارتوں میں شروع کئے گئے جس کی وجہ سے طلبہ کو دشواریوں کا سامنا ہے۔ ابتداء میں یہ اسکولس پانچویں تا ساتویں جماعت کیلئے تھے اور ہر سال اَپ گریڈ ہوتے گئے اور دسویں جماعت تک تعلیم ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسکولوں میں کھیل کود کے میدان اور این سی سی سرگرمیوں کیلئے جگہ نہیں جس کے نتیجہ میں طلبہ کو قریبی علاقوں میں جانا پڑرہا ہے۔ مرکزی حکومت نے کے سی آر کی نمائندگی پر اقامتی اسکولوں کی تعمیر کیلئے 800 کروڑ مختص کئے ہیں۔ یہ رقم زمینات خریدنے پر خرچ نہیں کی جاسکتی اسی لئے وقف اراضیات کو لیز پر لے کر عمارتوں کی تعمیر کا فیصلہ کیا گیا تاکہ مرکزی بجٹ کا صحیح استعمال ہو۔ محمود علی نے کہا کہ وقف بورڈ لیز کیلئے جو کرایہ مقرر کرے گا وہی ادا کیا جائے گا۔ اس فیصلہ سے وقف بورڈ کی مستقل آمدنی میں بھی اضافہ ہوگا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ ہر ایک کو سیاست سے بالاتر ہوکر اس کا خیرمقدم کرنا چاہیئے۔