حکومت اور بورڈ میں ٹکراؤ کی صورتحال، ووٹنگ کے ذریعہ قرارداد منظور کرنے حکومت کا مشورہ
حیدرآباد ۔24۔ فروری (سیاست نیوز) تلنگانہ میں اقامتی اسکولوں کیلئے وقف اراضی کے الاٹمنٹ کا معاملہ تعطل کا شکار ہوچکا ہے ۔ حکومت اور وقف بورڈ کے درمیان ٹکراؤ کی صورتحال پیدا ہوچکی ہے ۔ اقامتی اسکول سوسائٹی نے 50 اسکولوں کیلئے شہر اور اضلاع میں وقف بورڈ کی اراضی الاٹ کرنے کی درخواست دی تھی ۔ بورڈ کے دو اجلاسوں میں اس معاملہ میں کوئی پیشرفت نہیں ہوسکی اور ارکان میں اتفاق رائے نہ ہونے کے سبب معاملہ کو ٹال دیا گیا ۔ گزشتہ بورڈ اجلاس میں قرارداد منظور کرتے ہوئے اس سلسلہ میں حکومت سے رپورٹ طلب کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ سکریٹری اقلیتی بہبود سے درکار اراضی، عمارتوں کی تعمیری لاگت اور وقف بورڈ کو ادا کئے جانے والے کرایہ کی تفصیلات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس سلسلہ میں جب چیف اگزیکیٹیو آفیسر وقف بورڈ نے سکریٹری کو مکتوب حوالے کرنے کی کوشش کی تو بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے یہ کہتے ہوئے انکار کردیا کہ بورڈ حکومت سے وضاحت طلب کرنے کا مجاز نہیں ہے ۔ سکریٹری تمام اقلیتی اداروں کے سربراہ ہوتے ہیں، لہذا ان سے رپورٹ طلب کرے کا بورڈ کو اختیار نہیں۔ چونکہ اقامتی اسکول سوسائٹی نے اراضی کے لئے درخواست دی ہے ، لہذا وقف بورڈ کو مشورہ دیا گیا کہ وہ جو بھی شبہات ہوں ، اس کی یکسوئی سوسائٹی سے کریں۔ بورڈ کی قرارداد حکومت سے رپورٹ طلب کرنے کے حق میں ہے لیکن پروٹوکول کے اعتبار سے بورڈ کو سکریٹری سے وضاحت طلبی کی صورت میں مزید مسائل پیدا ہوسکتے ہیں۔ اب جبکہ اراضی الاٹمنٹ کا معاملہ پھر ایک مرتبہ تعطل کا شکار ہوچکا ہے ، بورڈ کے آئندہ اجلاس میں نئی قرارداد منظور کرنی پڑے گی ۔ دیکھنا یہ ہے کہ بورڈ کے تمام ارکان اراضی الاٹمنٹ کے مسئلہ پر کس حد تک اتفاق رائے پیدا کریں گے ۔ بورڈ کی جانب سے سکریٹری کو لکھا گیا مکتوب حوالے کے بغیر ہی واپس لا لیا گیا ۔ اطلاعات کے مطابق حکومت نے بورڈ کے صدرنشین کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اراضی الاٹمنٹ کے مسئلہ پر ارکان میں رائے دہی کے ذریعہ فیصلہ کریں۔ حکومت کے نامزد ارکان کی تعداد زیادہ ہے، لہذا رائے دہی میں حکومت کے مقصد کی تکمیل ہوسکتی ہے۔ بورڈ میں رکن پارلیمنٹ اور رکن اسمبلی زمروں کی دو نشستیں خالی ہیں۔ موجودہ ارکان نے حکومت کے نامزد کردہ ارکان کی تعداد حلیف جماعت مجلس کے ارکان سے زیادہ ہے۔ اگر رائے دہی کی کوشش کی گئی تو اندیشہ ہے کہ بورڈ میں اختلافات شدت اختیار کرلیں گے ۔ حکومت کسی بھی طرح اسکولوں کے لئے اوقافی اراضی حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور اس معاملہ میں اس کی حلیف جماعت کے ارکان مسلسل رکاوٹ پیدا کر رہے ہیں۔ اگر تعطل کا سلسلہ جاری رہا تو حکومت کو بورڈ کے تحویل کا اختیار حاصل ہے۔ حکومت کے ذرائع نے بتایا کہ اس کے پاس تمام امکانات کھلے ہیں۔
