اقامتی اسکولوں کی تعمیر کیلئے وقف اراضی کے الاٹمنٹ کی مساعی

   

سکریٹری اقلیتی بہبود سے رپورٹ طلب، الاٹمنٹ میں تاخیر سے حکومت ناراض
حیدرآباد۔ 21 فروری (سیاست نیوز) ریاست میں اقلیتی اقامتی اسکول سوسائٹی کو نئی عمارتوں کی تعمیر کے لیے وقف بورڈ کی اراضی الاٹ کرنے کا مسئلہ یکسوئی کے قریب دکھائی دے رہا ہے۔ وقف بورڈ کے گزشتہ دو اجلاسوں میں بعض ارکان کی مخالفت کے سبب اراضی الاٹمنٹ کے حق میں فیصلہ نہیں کیا جاسکا۔ مقامی سیاسی جماعت سے تعلق رکھنے والے بورڈ کے ارکان نے اوقافی اراضی کو اسکولوں کی تعمیر کے لیے الاٹ کرنے کی مخالفت کی اور اسے منشا وقف کے خلاف قرار دیا تھا۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم اور حکومت کے نامزد ارکان اراضی الاٹمنٹ کے حق میں ہیں لیکن بورڈ نے حکومت سے رپورٹ طلب کرنے کے حق میں قرارداد منظور کی۔ اقامتی اسکول سوسائٹی اور حکومت سے درکار اراضی، تعمیری لاگت اور وقف بورڈ کو ادا کئے جانے والے کرائے کی تفصیلات پر مشتمل رپورٹ طلب کی گئی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اقامتی اسکول سوسائٹی کی درخواست پر بورڈ نے الاٹمنٹ کا فیصلہ موقوف رکھا کیوں کہ ارکان کا استدلال ہے کہ اس طرح کے معاملات میں حکومت کو مکتوب لکھنا چاہئے۔ اقامتی اسکول سوسائٹی اگرچہ حکومت کا حصہ ہے لیکن مستقل ادارہ نہیں جس سے معاملت کی جاسکے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود احمد ندیم کو وقف بورڈ کی جانب سے مکتوب روانہ کیا جارہا ہے جس میں خواہش کی گئی کہ اسکولوں کے لیے درکار اراضی کی تفصیلات روانہ کریں۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے واضح کیا کہ بورڈ وقف اراضی الاٹ کرنے کے حق میں ہے اور حکومت سے باقاعدہ رپورٹ ملتے ہی اجلاس میں قرارداد منظور کی جائے گی۔ بورڈ کی جانب سے فیصلے میں تاخیر پر حکومت نے ناراضگی کا اظہار کیا۔ کیوں کہ حکومت کا موقف یہ ہے کہ اسکولوں کے لیے مستقل عمارتوں کی تعمیر سے نہ صرف اواقافی اراضی کا تحفظ ہوگا بلکہ بورڈ کی آمدنی میں اضافہ ہوگا۔ اس معاملے میں وزیر داخلہ اور حکومت کے مشیر نے خصوصی دلچسپی کا مظاہرہ کیا اور وقف بورڈ کے ارکان کے ساتھ اجلاس منعقد کیا تھا۔ اس کے باوجود دو اجلاسوں میں اس معاملے پر ارکان میں اتفاق رائے نہ ہوسکا۔ حکومت کے سخت موقف کو دیکھتے ہوئے بورڈ نے سکریٹری سے خواہش کی کہ وہ رسمی طور پر مکتوب روانہ کریں۔ واضح رہے کہ حکومت تقریباً 50 اسکول عمارتوں کی تعمیر کا منصوبہ رکھتی ہے اور ہر اسکول کے لیے کم از کم دو تا تین ایکر اراضی درکار ہے۔ حکومت نے 71 اسکولوں کو جونیئر کالجس میں اپ گریڈ کرنے کا فیصلہ کیا جس کے نتیجہ میں اسکولوں کی موجودہ عمارتیں ناکافی ہیں۔ زیادہ تر اسکولس کرائے کی عمارتوں میں کام کررہے ہیں اور سوسائٹی کی جانب سے بھاری کرایہ ادا کیا جارہا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سوسائٹی کو حکومت کی جانب سے دیئے جانے والے بجٹ کا زیادہ تر حصہ کرایہ جات اور دیگر انفراسٹرکچر کی فراہمی پر خرچ ہورہا ہے۔ امید کی جارہی ہے کہ بورڈ کے آئندہ اجلاس میں وقف اراضی الاٹ کرنے کے حق میں قرارداد منظور کی جائے گی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بورڈ میں حکومت کے ارکان کی تعداد کی اکثریت ہے لیکن غلبہ مقامی سیاسی جماعت کا ہے جس کے نتیجہ میں ارکان یکطرفہ فیصلے کی ہمت نہیں جٹاپاتے۔ بورڈ میں رکن پارلیمنٹ اور رکن اسمبلی زمرے کی نشستیں مخلوعہ ہیں۔ جبکہ بار کونسل رکن کی نشست پر الیکشن کا معاملہ ہائی کورٹ میں زیر التوا ہے۔