اقامتی اسکول کے اسٹاف سے پیر دبانے کا ویڈیو وائرل

   

Ferty9 Clinic


ظہیرآباد میں پرنسپل اور ان کے شوہر کا غیر انسانی رویہ، مقامی افراد کا احتجاج
حیدرآباد: اقلیتی اقامتی اسکولوں کی کارکردگی کے بارے میں وقتاً فوقتاً کئی شکایات منظر عام پر آرہی ہیں۔ اقامتی اسکولوں میں صفائی کے کام انجام دینے کے لئے ہاؤز کیپنگ اسٹاف کا تقرر کیا گیا لیکن ظہیر آباد میں اقامتی اسکول کی پرنسپل اور ان کے شوہر نے ہاؤز کیپنگ اسٹاف سے اپنے پیر دبانے کا کام لیا جس کا ویڈیو سوشیل میڈیا میں وائرل ہوچکا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ویڈیو وائرل ہونے تک مذکورہ پرنسپل کو علاقائی سطح کے کوآرڈینیٹر کے عہدہ پر ترقی دی گئی ۔ اقامتی اسکولوں میں باقاعدہ کلاسس کے بجائے آن لائین کلاسس کا اہتمام کیا جارہا ہے اور اسکولوں میں طلبہ کی حاضری نہیں ہے لیکن ہاؤز کیپنگ اسٹاف کو صفائی کے کاموں کی انجام دہی کیلئے روزانہ حاضر ہونا پڑتا ہے۔ سنگا ریڈی ضلع کے ظہیر آباد منڈل کے الگول اقلیتی اقامتی اسکول کی پرنسپل جوتر مائی اور ان کے شوہر نے دو ملازمین کو اپنے پیر دبانے پر مامور کیا ۔ ملازمین کی جانب سے پیر دبانے کا ویڈیو سوشیل میڈیا میں وائرل ہوگیا جس کے بعد مقامی ریونیو عہدیداروں نے پہنچ کر جانچ کی۔ بتایا جاتا ہے کہ اقامتی اسکول سوسائٹی کے ویجلنس عہدیداروں نے بھی اسکول کا دورہ کرتے ہوئے ملازمین کے بیانات ریکارڈ کئے لیکن پرنسپل کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ ہاؤز کیپنگ اسٹاف کی دونوں خاتون ملازمین کے ساتھ اس طرح کا رویہ مقامی عوام میں ناراضگی کا سبب بن چکا ہے ۔ عوام نے خاتون ملازمین کی توہین کرنے والی پرنسپل اور ان کے شوہر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ۔ واضح رہے کہ اقلیتی اقامتی اسکول کی مذکورہ پرنسپل کو سنگا ریڈی ، میدک اور سدی پیٹ اضلاع کا انچارج کوآرڈینیٹر مقرر کیا گیا ہے ۔ اقامتی اسکولوں اور جونیئر کالجس میں پرنسپل اور لکچررس کے عہدوں پر اکثریتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد کے تقرر پر اقلیتوں میں ناراضگی پائی جاتی ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ آوٹ سورسنگ اسٹاف کے امتحانات میں کثیر تعداد میں اہل اقلیتی امیدواروں کی شرکت کے باوجود اکثریتی طبقہ کے افراد کا تقرر کیا گیا جبکہ اسکولوں اور کالجس میں 75 فیصد طلبہ کا تعلق مسلم اقلیت سے ہے۔ غیر مسلم اسٹاف کی اکثریت کے نتیجہ میں طلبہ کو دشواریوں کا سامنا ہے۔