اقتدار کی رجعت پسند طاقتیں ہمیشہ مفکرین اور مصنفین سے خوفزدہ

   

اورنگ آباد 17 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) مرکز میں برسر اقتدار رجعت پسند طاقتیں مفکرین اور مصنفین سے ہمیشہ خوفزدہ رہتی ہیں۔ مراٹھی کی عنقریب منعقد ہونے والی ادبی کانفرنس کے سربراہ فادر فرانسیس ڈبریٹو نے کہاکہ جو لوگ دوسروں کی اظہار خیال کی آزادی اور غور و فکر کرنے والوں کی مخالفت کرنے والے ہی اصل میں جمہوریت کے دشمن ہیں۔ اقتدار پر رہنے والے رجعت پسند لوگ ہمیشہ مصنفین اور مفکرین سے خوفزدہ رہتے ہیں۔ اِن طاقتوں سے نمٹنے کے لئے اِسی سوچ کے حامل افراد کو مل کر آگے آنا ہوگا۔ اپنے منصوبوں کا برسر عام اظہار کرنا ہوگا۔ فادر ڈبریٹو نے کہاکہ مرکز کی حکمراں طاقتیں ہمیشہ تنقید کرنے والوں اور سچ بیانی کو برداشت نہیں کرتے۔ فادر ڈبریٹو مراٹھا واڑہ ساہتیہ پریشد کی جانب سے منعقدہ تہنیتی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ وہ 93 ویں اکھل بھارتیہ مراٹھی ساہتیہ سمیلن کے صدر منتخب ہونے کے بعد پہلی مرتبہ مہاراشٹرا کے اورنگ آباد پہونچے ہیں۔ یہ مراٹھی سمیلن 10 جنوری سے ضلع عثمان آباد میں منعقد ہورہا ہے۔ عیسائی پادری کو ادبی اجلاس کے سربراہ کی حیثیت سے مقرر کیا گیا تو اِن کے خلاف گمراہ کن مہم چلائی گئی۔ اِس اکیڈیمی کے دیگر دو عہدیداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ انھیں ہٹانے کے لئے دھمکی بھرے کالس وصول ہورہے ہیں۔ فادر ڈبریٹو نے کہاکہ ہندوستان ایک ایسی جگہ ہے جہاں متضاد فکر کی حامل شخصیتیں مل جل کر رہتی ہیں اور یہی ہمارے ملک کی شناخت ہے۔ لیکن اب یہ روایت چل پڑی ہے کہ مصنفین اور مفکرین کو اِس دنیا میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مثال کے طور پر حالیہ واقعات کا حوالہ دیا جاسکتا ہے۔ فادر ڈبریٹو نے جو تحفظ ماحولیات کے سرگرم کارکن بھی ہیں، کہاکہ اگر ہندوستان کو ایک رنگ، ایک زبان، ایک تہذیب، ایک ثقافت سے رنگا جائے تو ہندوستان کی شناخت ختم ہوجائے گی۔ اُنھوں نے مزید کہاکہ ہندوستان میں کئی عیسائی مصنفین ہیں جنھوں نے مراٹھی ادب کے لئے اپنی خدمات انجام دی ہیں۔ کسی بھی چیز کے تعلق سے جن لوگوں میں معلومات کا فقدان ہوتا ہے وہ اپنی خرابیوں کو چھپانے کے لئے دوسروں پر کیچڑ اُچھالتے ہیں۔ ایسے لوگوں سے مقابلہ کرنا وقت کا تقاضہ ہے۔ 77 سالہ فادر ڈبریٹو ممبئی کے قریب واسوی میں رہتے ہیں۔ انھیں حال ہی میں ساہتیہ اکیڈیمی کی جانب سے پُروقار ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔ انھوں نے بائبل کا مراٹھی میں ترجمہ کیا ہے۔ وہ مراٹھی اخبارات میں باقاعدہ کالم لکھتے ہیں۔ اِس تہنیتی تقریب میں مراٹھی کے نامور شاعر نامڈیو مہانور اور اکھل بھارتیہ ساہتیہ مہا منڈل کے صدر کے ٹی پاٹل بھی موجود تھے۔