ٹی آر ایس کے رکن اسمبلی عامر شکیل اور دوسرے ارکان کے سوال پر وزیر اقلیتی بہبود کا جواب
حیدرآباد۔ وزیر اقلیتی بہبود کے ایشور نے کہا کہ ریاست میں گذشتہ 5 سال سے اقلیتو ں کیلئے بینکوں سے مربوط قرض کی ادائیگی کیلئے کوئی اعلامیہ جاری نہیں کیا گیا البتہ سال برائے 2014-15 کے دوران بینکوں سے مربوط قرضوں کی اسکیم کیلئے نوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا جس میں اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کیلئے 1.53 لاکھ درخواستیں وصول ہوئی تھیں۔ 13,234 درخواستوں کو منظور کرنے کا نشانہ تھا مگر تاحال 6254 درخواستوں کو ہی منظوری دی گئی ہے۔ اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران ٹی آر ایس کے رکن اسمبلی عامر شکیل اور مجلس کے ارکان کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کا جواب دیتے ہوئے ریاستی وزیر اقلیتی بہبود نے کہا کہ جن درخواستوں کو منظوری دی گئی اس کے لئے 25 کروڑ روپئے جاری کئے گئے ۔ آٹو اسکیم کیلئے 1800 کا نشانہ مختص کیا گیا تھا مگر 2000 درخواستیں وصول ہوئیں اور ان میں 1740 درخواستوں کو منظوری دئی گئی اور آٹو ڈرائیورس کو آٹو فراہم کرنے کیلئے ایک لاکھ 45 ہزار روپئے کی سبسیڈی فراہم کی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ موٹر کاریں بھی دی جارہی ہیں جس کے لئے 7 کروڑ روپئے منظور کئے گئے ہیں۔ 2016-17 میں ڈرائیور ایمپاورمنٹ اسکیم کا نشانہ 100 کاری رکھا گیا تھا مگر 21 کاریں منظور کی گئیں۔ سال 2017-18 میں 11,734 افراد کو مالی امداد کرنے کا نشانہ مختص کیا گیا تھا لیکن صرف 1324 درخواستو ں کو منظوری دی گئی۔ ڈرائیور ایمپاورمنٹ اسکیم کا نشانہ 500 تا مگر 409 منظور کئے گئے۔ ریاستی وزیر اقلیتی بہبود کے ایشور نے کہا کہ اقلیتوں کی ترقی و بہبود کے معاملہ میں حکومت عہد کی پابند ہے۔ اقلیتوں، ایس سی، ایس ٹی ، بی سی طبقات کے طلبہ کو بیرونی ممالک کی یونیورسٹیز میں اعلیٰ تعلیم دلوانے کیلئے اوورسیز اسکالر شپس متعارف کرائی گئی ہے۔ اس اسکیم سے 3676 طلبہ نے استفادہ کیا ہے۔ حکومت نے 589 کروڑ 69 لاکھ روپئے خرچ کئے ہیںاس اسکیم سے زیادہ فائدہ اقلیتی طبقہ نے اٹھایا ہے۔ پہلے اس اسکیم کے تحت 10 لاکھ روپئے فراہم کئے جارہے تھے جس کو بڑھا کر 20 لاکھ روپئے کئے گئے ہیں۔