اسمبلی کی اقلیتی بہبود کمیٹی کا اجلاس، اسپیکر سرینواس ریڈی اور صدرنشین کونسل سکھیندر ریڈی کا خطاب
حیدرآباد ۔2 ۔ڈسمبر (سیاست نیوز) اسمبلی کی اقلیتی بہبود کمیٹی کا پہلا اجلاس آج منعقد ہوا۔ اسپیکر اسمبلی پوچارم سرینواس ریڈی ، صدرنشین قانون ساز کونسل جی سکھیندر ریڈی ، کمیٹی کے صدرنشین محمد فریدالدین ، ارکان احمد بلعلا ، ایم گوپی ناتھ ، مانک راؤ ، اسٹفنسن ، ڈی راج شیکھر راؤ ، محمد فاروق حسین اور امین الحسن جعفری نے شرکت کی ۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے اسپیکر پوچارم سرینواس ریڈی نے کہا کہ اقلیتوں کی ترقی اور بھلائی کیلئے ملک بھر میں سب سے زیادہ توجہ اور فنڈس کی اجرائی میں تلنگانہ سرفہرست ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیم کے بغیر ترقی ممکن نہیں ہے ، لہذا حکومت نے 206 اقلیتی اقامتی اسکولس قائم کئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تمام مذاہب کا یکساں طور پر احترام کرتی ہے اور عید اور تہوار حکومت کی جانب سے سرکاری طور پر منائے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام مذاہب کی عبادتگاہوں کی ترقی کیلئے حکومت اقدامات کر رہی ہے۔ مندروں ، چرچس ، گردوارہ اور مساجد کی ترقی کیلئے حکومت فنڈس جاری کر رہی ہے ۔ اسپیکر نے اقلیتی بہبود کمیٹی کو مشورہ دیا کہ وہ تلنگانہ میں اقلیتوں کے مسائل کا جائزہ لیتے ہوئے حکومت کو تجاویز پیش کرے۔ ایوان کی کمیٹی کی علحدہ شناخت ہوتی ہے اور وہ اقلیتوں کی ترقی کے بارے میں حکومت کو رہنمائی کرسکتی ہے۔ صدرنشین قانون ساز کونسل جی سکھیندر ریڈی نے کہا کہ حکومت نے اقلیتوں کی ترقی کیلئے کئی منفرد اسکیمات کا آغاز کیا ہے جس سے بڑی تعداد میں اقلیتی خاندان استفادہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کمیٹی کو مشورہ دیا کہ وہ بنیادی سطح تک اقلیتی اسکیمات پر عمل آوری کا جائزہ لینے کیلئے دورے کریں اور حکومت کو اسکیمات میں بہتری کیلئے رپورٹ پیش کریں۔ کمیٹی کے صدرنشین محمد فریدالدین نے کہا کہ اقلیتی اسکیمات پر عمل آوری کے علاوہ اقلیتی بہبود کے بجٹ کے بہتر خرچ کو یقینی بنانے پر کمیٹی توجہ دے گی ۔ ضرورت پڑنے پر اقلیتوں کی سماجی اور معاشی ترقی کیلئے حکومت کو نئی اسکیمات کی تجویز پیش کی جائے گی ۔