اقلیتی بہبود کے بجٹ میں اضافہ ہوگا، معاشی اور تعلیمی ترقی کا جامع منصوبہ، بی آر ایس اور مجلس کے پروپگنڈہ کا شکار نہ ہوں، صدر پردیش کانگریس کا انٹرویو
… رشید الدین …
حیدرآباد۔/28 نومبر، صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے کہا کہ صرف کانگریس پارٹی ملک میں سیکولرازم اور اقلیتوں کا تحفظ کرنے میں سنجیدہ ہے۔ تلنگانہ اسمبلی چناؤ میں مسلمانوں میں تبدیلی کی لہر واضح طور پر دکھائی دے رہی ہے اور کے سی آر حکومت کی دس سالہ کارکردگی نے مسلم اقلیت کو مایوس کردیا ہے جس کے نتیجہ میں اقلیتوں کی تائید سے ریاست میں کانگریس کا اقتدار یقینی ہے۔ صدر پردیش کانگریس ریونت ریڈی نے ’ سیاست‘ سے خصوصی بات چیت میں مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ بی آر ایس اور مجلس کے گمراہ کن پروپگنڈہ کا شکار نہ ہوں کیونکہ یہ دونوں پارٹیاں مسلمانوں میں پھوٹ پیدا کرتے ہوئے ایک طرف کانگریس کو اقتدار سے روکنا چاہتی ہیں تو دوسری طرف مرکز میں بی جے پی کی مدد کرنا ان کا بنیادی مقصد ہے۔ کرناٹک اسمبلی چناؤ میں جس طرح مسلمانوں نے کانگریس کی مکمل تائید کرتے ہوئے بی جے پی کو اقتدار سے بیدخل کردیا اسی طرح تلنگانہ میں مسلمان کانگریس کو ووٹ دے کر کے سی آر کے 10 سالہ آمرانہ اور جابرانہ دور حکومت کا خاتمہ کریں گے۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ کے سی آر نے گذشتہ دس برسوں میں مسلمانوں کی تعلیمی و معاشی ترقی کے حق میں ایک بھی ٹھوس قدم نہیں اٹھایا۔ کانگریس دور حکومت کی اسکیمات کے نام تبدیل کرتے ہوئے اقلیتی بہبود کے بلند بانگ دعوے کئے جارہے ہیں۔ متحدہ آندھرا پردیش میں کانگریس دور حکومت میں اقلیتوں کی حقیقی معنوں میں بھلائی ہوئی جب وائی ایس راج شیکھر ریڈی حکومت نے تعلیم اور روزگار میں مسلمانوں کو 4 فیصد تحفظات فراہم کئے جس کے نتیجہ میں لاکھوں خاندانوں کو فائدہ پہنچا۔ کے سی آر نے اقتدار کے چار ماہ میں 12 فیصد تحفظات کا وعدہ کیا تھا اور اس بارے میں سوال کرنے پر برہمی کا اظہار کیا گیا۔ ریونت ریڈی نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ بی آر ایس اور مجلس سے چوکس رہیں جو بی جے پی مدد کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان محسوس کرنے لگے ہیں کہ ان کے نام پر سیاست کرنے والی مجلس دراصل بی جے پی کی آلۂ کار ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں کانگریس برسراقتدار آتے ہی اقلیتوں سے کئے گئے تمام وعدوں پر عمل کیا جائے گا۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ پارٹی نے انتخابی منشور کے علاوہ اقلیتوں کیلئے علحدہ ڈیکلریشن جاری کیا ہے جس کے تحت اقلیتوں کی معاشی و تعلیمی ترقی کیلئے جامع منصوبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی بہبود کے بجٹ کو سالانہ 4000 کروڑ کیا جائے گا اور یہ علحدہ سب پلان کے تحت ہوگا۔ ریاست میں ذات پات پر مبنی مردم شماری چھ ماہ میں مکمل کرتے ہوئے اقلیتوں اور دیگر پسماندہ طبقات کے تحفظات میں اضافہ کیا جائے گا۔ بیروزگار اقلیتی نوجوانوں اور خواتین کو سبسیڈی پر مبنی قرض کیلئے سالانہ 1000 کروڑ بجٹ مختص کیا جائے گا۔ ابوالکلام تحفہ تعلیم اسکیم کے تحت اقلیتی طلبہ کو 5 لاکھ روپئے تک تعلیمی امداد فراہم کی جائے گی۔ ائمہ، موذنین، درگاہوں کے خادمین، پاسٹرس اور گرنتھوں کو ماہانہ دس تا بارہ ہزار روپئے اعزازیہ دیا جائے گا۔ اوقافی جائیدادوں کے ریکارڈ کو ڈیجٹلائزڈ کرتے ہوئے جائیدادوں کا تحفظ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ غریب اقلیتی لڑکیوں کی شادی پر ایک لاکھ 60 ہزار روپئے کی امداد دی جائے گی۔ پرانے شہر کی ترقی کیلئے قلی قطب شاہ اربن ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کا احیاء عمل میں آئے گا۔ اقلیتوں سے متعلق سچر کمیٹی کی سفارشات پر عمل کرتے ہوئے ریاست میں اقلیتی اقامتی تعلیمی اداروں کی تعداد میں اضافہ کیا جائے گا۔ ریونت ریڈی نے بھروسہ دلایا کہ کانگریس پارٹی صرف وعدے نہیں بلکہ عمل آوری پر یقین رکھتی ہے اور انتخابی منشور میں کئے گئے ہر ایک وعدہ کو عملی شکل دی جائے گی۔ انہوں نے اقلیتی رائے دہندوں سے اپیل کی کہ وہ کے سی آر پر دوبارہ بھروسہ نہ کریں اور کانگریس پارٹی کو ایک موقع دیں۔ ریونت ریڈی نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے کبھی بھی فرقہ پرست طاقتوں بالخصوص بی جے پی اور سنگھ پریوار سے کوئی سمجھوتہ نہیں کیا ہے اور تلنگانہ میں کانگریس حکومت امن و امان اور خوشحالی کو یقینی بناتے ہوئے ترقی کے نئے دور کا آغاز کرے گی۔