اقلیتوں کی تعلیمی، سماجی و معاشی ترقی کیلئے حکومت کی سرگرم کوششیں جاری

,

   

ہنر ہاٹ سے 2,65,000 اقلیتی ہنر مند افراد کو روزگار، حج کوٹہ میں اضافہ، ایودھیا فیصلہ پر عوام کی پختہ کاری کی ستائش، صدر کووند کا خطاب
نئی دہلی 31 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) صدرجمہوریہ نے جمعہ کو کہاکہ اقلیتوں کو بااختیار بنانے کے لئے حکومت کی جانب سے مسلسل اقدامات کئے جارہے ہیں۔ ہنر ہاٹ مساعی کے ذریعہ اقلیتی برادری کے 2,65,000 ہنرمند افراد کو روزگار کے مواقع فراہم کئے گئے۔ صدر کووند نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے خطاب کرتے ہوئے اس حقیقت کو اُجاگر کیاکہ حکومت ہند کی درخواست پر سعودی عرب نے حج کوٹہ میں غیرمعمولی اضافہ کیا جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی جس کے نتیجہ میں اس سال مزید دو لاکھ ہندوستانی مسلمانوں کو حج کی سعادت نصیب ہوگی۔ ہندوستان وہ پہلا ملک ہے جہاں سفر حج کا سارا عمل آن لائن اور ڈیجٹلائزیشن سے آراستہ کیا گیا ہے۔ ملک بھر کی وقف جائیدادوں کو بھی صد فیصد ڈیجیٹل بنایا جارہا ہے تاکہ موقوفہ جائیدادوں کو مسلم برادری کی فلاح و بہبود کے لئے مؤثر طریقہ سے استعمال کیا جاسکے۔ صدر کووند نے مزید کہاکہ ’اقلیتی برادری کی سماجی، اقتصادی و تعلیمی ترقی کے لئے حکومت مسلسل اقدامات کررہی ہے۔ ہنر ہاٹ کے ذریعہ اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے 2,65,000 ہنرمندوں کو روزگار کے مواقع فراہم کئے گئے ہیں۔ مسلم طلبہ کی کثیر تعداد کو اسکالرشپس دیئے جارہے ہیں تاکہ وہ بلا رکاوٹ اپنی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھ سکیں۔ صدر رام ناتھ کووند نے رام جنم بھومی بابری مسجد مسئلہ پر سپریم کورٹ کے فیصلہ کے موقع پر ملک کے عوام کی طرف سے کئے گئے پختہ کاری کے مظاہرے کی ستائش کی۔ اُنھوں نے جمہوری اداروں پر عوام کے اظہار اعتماد سے ملک کی جمہوری بنیادیں مزید مستحکم ہوئی ہیں۔ صدر کووند نے کہاکہ ’رام جنم بھومی پر سپریم کورٹ کے فیصلہ کے موقع پر عوام کی طرف سے جس پختہ کاری کا مظاہرہ کیا گیا وہ قابل ستائش ہے‘۔ سپریم کورٹ نے 9 نومبر کو دیئے گئے اپنے فیصلے کے ذریعہ ایودھیا کے متنازعہ مقام پر ایک بڑے رام مندر کی تعمیر کی راہ ہموار کی ہے اور مرکز کو ہدایت کی تھی کہ اترپردیش سنی وقف بورڈ کو اس مقدس شہر کے کسی دوسرے مقام پر مسجد کی تعمیر کے لئے پانچ ایکر اراضی دی جائے۔ ایک صدی سے جاری اس حساس مذہبی و سیاسی تنازعہ کی یکسوئی کے لئے سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ملک کے کسی بھی مقام پر تشدد کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا تھا۔ سپریم کورٹ نے مندر کی تعمیر کے اُمور کی دیکھ بھال و نگرانی کے لئے اندرون تین ماہ ایک ٹرسٹ کے قیام کی ہدایت بھی کی تھی۔ صدرجمہوریہ نے مودی حکومت کی دوسری میعاد کے ابتدائی سات ماہ کے دوران کئے گئے چند اہم و حساس فیصلوں کی بھرپور ستائش کی جن میں ایودھیا میں مندر کی تعمیر، تین طلاق کی تنسیخ، جموں و کشمیر کے خصوصی موقف سے متعلق دستوری دفعہ 370 کی تنسیخ، ترمیمی قانون کی منظوری وغیرہ بھی شامل ہے۔