اقلیتوں کی معاشی ترقی کی اسکیمات ٹھپ، اقلیتی فینانس کارپوریشن غیر کارکرد

,

   

سبسیڈی اسکیم کیلئے فنڈز نہیں، 6 برسوں میں محض 13ہزار افراد کو سبسیڈی، 50ہزار روپئے امدادی اسکیم اعلان تک محدود

حیدرآباد۔/29 ستمبر، ( سیاست نیوز) اقلیتوں کی معاشی ترقی کیلئے حکومت کا واحد ادارہ اقلیتی فینانس کارپوریشن ہے جس کے ذریعہ بینکوں سے مربوط سبسیڈی، آٹو اور کار کی فراہمی اسکیم اور ٹریننگ و ایمپلائمنٹ کے تحت روزگار پر مبنی کورسیس کی تربیت کا نشانہ ہے لیکن افسوس کہ تلنگانہ ریاست کے قیام کے بعد سے یہ ادارہ عملاً مفلوج ہوچکا ہے۔ حکومت کی جانب سے فنڈز کی عدم اجرائی کے نتیجہ میں بینکوں سے مربوط سبسیڈی اسکیم بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ کارپوریشن کے تحت یہ واحد اسکیم تھی جس کے ذریعہ اقلیتوں کو کاروبار کے شروع کرنے کیلئے قرض فراہم کیا جاتا ہے۔ حکومت نے دلتوں کی معاشی ترقی کیلئے دلت بندھو اسکیم کا اعلان کیا جس کے تحت ہر خاندان کو 10 لاکھ روپئے فراہم کئے جارہے ہیں۔ اقلیتوں اور دیگر طبقات کی پسماندگی دور کرنے کیلئے چیف منسٹر نے علحدہ اسکیم کا وعدہ کیا لیکن نئی اسکیم کے آغاز کیلئے حکومت کو وقت درکار ہے۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن کی 2014-15 سے 2020-21 تک کی کارکردگی سے متعلق حکومت کو پیش کردہ رپورٹ کا جائزہ لیں تو اندازہ ہوگا کہ گزشتہ سات برسوں میں تینوں اسکیمات پر 224.22 کروڑ روپئے خرچ کئے گئے اور 55666 استفادہ کنندگان کو اسکیمات سے فائدہ ہوا۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن نے سبسیڈی اسکیم کیلئے درخواستیں طلب کیں اور ایک لاکھ 60 ہزار سے زائد درخواستیں داخل کی گئیں جو گزشتہ 4 برسوں سے یکسوئی کی منتظر ہیں۔ تلنگانہ کی تشکیل کے بعد 6 برسوں میں سبسیڈی اسکیم پر عمل آوری کا جائزہ لیں تو پتہ چلے گا کہ صرف 13696 افراد کو سبسیڈی فراہم کی گئی جو 127.63 کروڑ کی ہے۔ 6 برسوں میں تقریباً 14000 امیدواروں کا احاطہ کیا گیا جو کارپوریشن کی عدم کارکردگی کا کھلا ثبوت ہے۔ ہونا تو یہ چاہیئے تھا کہ ہر سال کم از کم ایک لاکھ اقلیتی افراد کو سبسیڈی فراہم کی جاتی۔ بتایا جاتا ہے کہ اقلیتی بہبود کے اعلیٰ عہدیداروں کو اس بات سے کوئی دلچسپی نہیں کہ کارپوریشن کو فنڈز جاری کئے جائیں۔ گزشتہ کئی برسوں سے زیر التواء 1.60 لاکھ درخواستوں کے بارے میں آج تک کوئی وضاحت نہیں کی گئی برخلاف اس کے حکومت نے کارپوریشن کے ذریعہ غریب مسلمانوں کو چھوٹے کاروبار شروع کرنے راست طور پر 50 ہزار روپئے فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا اور چیف منسٹر کی جانب سے اسکیم کی منظوری کا دعویٰ کیا گیا لیکن گزشتہ دو برسوں میں ایک بھی شخص کو 50 ہزار روپئے جاری نہیں کئے گئے۔ اسکیم کے آغاز کیلئے ابھی تک باقاعدہ درخواستیں بھی طلب نہیں کی گئیں۔ کارپوریشن کے عہدیداروں کو حکومت سے شکایت ہے کہ وہ فنڈز جاری نہیں کررہی ہے تو دوسری طرف اعلیٰ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ کارپوریشن میں انچارج منیجنگ ڈائرکٹر کی خدمات کے نتیجہ میں کارکردگی پر اثر پڑا ہے۔ کرسچن فینانس کارپوریشن کی منیجنگ ڈائرکٹر کو اقلیتی فینانس کارپوریشن کی اضافی ذمہ داری دی گئی۔ چند برسوں سے کارپوریشن کیلئے مستقل منیجنگ ڈائرکٹر کا تقرر نہیں کیا گیا۔ مسلم عوامی نمائندوں اور جماعتوں اور تنظیموں کو اس سلسلہ میں حکومت سے نمائندگی کرنی چاہیئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اقلیتی بہبود کا قلمدان غیر اقلیتی وزیر کے پاس ہے جس کے نتیجہ میں اقلیتی اداروں کی کارکردگی پر کوئی نگرانی نہیں ہے۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن کی موجودہ اسکیمات پر موثر عمل آوری اور نئی اسکیمات متعارف کرتے ہوئے اقلیتوں کی معاشی پسماندگی کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے لیکن یہ اسی وقت ممکن ہے جب حکومت اور اقلیتوں کے نمائندے سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔ ر