محمد نعیم وجاہت
چیف منسٹرکے چندر شیکھر راؤ کے گھر کا کُتا بھی اگر بیماری سے مرتا ہے تو متعلقہ ڈاکٹر کے خلاف مقدمہ درج کیا جاتا ہے۔ وبائی امراض کا شکار ہوکر درجنوں انسان مر رہے ہیں مگر کسی ڈاکٹر یا ہاسپٹل انتظامیہ کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی بلکہ ڈینگو، ملیریا، ٹائیفائیڈ کا شکار ہونے کی تصدیق کرنے والے ڈاکٹرس اور ہاسپٹل انتظامیہ کو دھمکیاں دے کر انہیں حقائق چھپانے کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔ کیا تلنگانہ کے عوام ایسا تلنگانہ چاہتے تھے؟ یہ سب سے بڑا موضوع بحث ہے۔ تحریکات سے جنم لینی والی سیاسی جماعتوں کو اپنے اُصولوں اور اقدار پر ہمیشہ ڈٹے رہنا پڑتا ہے، چاہے اس کے لئے انہیں اقتدار سے ہی کیوں نہ محروم ہونا پڑے، لیکن ٹی آر ایس نے اپنے سیاسی مقاصد کی تکمیل کے بعد اُصول، اخلاق، وعدوں یہاں تک کہ مجاہدین تلنگانہ کو بھی فراموش کردیا ہے۔ حصول تلنگانہ کیلئے تلنگانہ راشٹر سمیتی (ٹی آر ایس) تشکیل دینے والے کے سی آر نے تحریکات، احتجاج، خودکشیوں اور انتخابات کو ہتھیار کے طور پر استعمال کیا اور اپنی تحریک میں آندھرا والوں کو ’’تلنگانہ کا غدار‘‘ قرار دینے والے کے سی آر نے تلنگانہ کی نمائندگی کرنے والے مختلف جماعتوں کے قائدین کو ’’آندھرائی غلام‘‘ قرار دیتے ہوئے تلنگانہ کا جذبہ رکھنے والوں کی نظر میں دشمن کی طرح پیش کیا جبکہ وہ قائدین بھی پارٹیوں کی حدود میں رہتے ہوئے اپنے اپنے حلقوں میں تلنگانہ کیلئے قیادت سے ٹکراؤ کی پالیسی اپنائے ہوئے تھے۔ تلنگانہ کی تحریک میں آر ٹی سی ملازمین، سرکاری ملازمین اور طلبہ کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ علیحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کیلئے مرکز پر دباؤ بنانے کیلئے آر ٹی سی ملازمین نے دیڑھ ماہ تک ہڑتال کی تھی، اُس وقت آر ٹی سی ملازمین، ٹی آر ایس اور کے چندر شیکھر راؤ کی نظر میں ’’ہیرو‘‘ کہلاتے تھے۔ آج یہی ملازمین آر ٹی سی کو خانگی شعبہ کے حوالے کرنے کے خلاف ہڑتال کررہے ہیں اور آر ٹی سی کو حکومت میں ضم کرنے کے علاوہ دیگر 26 مطالبات کی یکسوئی کیلئے احتجاج کررہے ہیں تو 5 سال میں ٹی آر ایس حکومت کی نظر میں ’’ہیرو‘‘ سے ’’ویلن‘‘ میں تبدیل ہوگئے۔ یہ کہنا بھی مبالغہ نہیں کہ حکومت کو آر ٹی سی ملازمین ’’آندھرائی باشندے‘‘ نظر آرہے ہیں۔ تلنگانہ تحریک کے دوران کے سی آر نے خود ہی وعدہ کیا تھا کہ علیحدہ تلنگانہ ریاست میں آر ٹی سی ملازمین کو سرکاری ملازمین کے طرز پر تنخواہیں دی جائیں گی مگر وہ دوسرے وعدوں کی طرح اس وعدے کو بھی فراموش کرگئے ہیں۔ اپنے حقوق اور جائز مطالبات کیلئے احتجاج کرنے کا دستور ہند نے مکمل اختیار دیا ہے، مگر تلنگانہ میں احتجاج اور تحریک سے ہمارے چیف منسٹر کو ’’الرجی‘‘ ہوگئی ہے۔ انہوں نے احتجاجی ملازمین سے بات چیت کرنا بھی گوارا نہیں کیا جبکہ آر ٹی سی کی جوائنٹ ایکشن کمیٹی (جے اے سی) نے ڈھائی ماہ قبل نوٹس دینے کے بعد 5 اکتوبر سے اپنی ہڑتال شروع کی۔ آر ٹی سی ہڑتال کے سبب عوام کو دشواریاں پیش آرہی ہیں۔ حکومت اور آر ٹی سی ملازمین اپنے اپنے موقف پر اٹل ہیں۔ ہڑتال شروع ہونے کے اندرون دو دن اعلان کردیا گیا کہ جو ملازمین ڈیوٹی پر رجوع نہیں ہوئے، انہیں برطرف تصور کیا جائے گا۔ چیف منسٹر کے اس فیصلے کو ’’آمرانہ فیصلہ‘‘ سمجھا جائے گا۔ ہڑتال کو ناکام بنانے کیلئے حکومت کی کوششوں سے دلبرداشتہ ہوکر 2 ملازمین نے جہاں خودکشی کی ہے، وہیں 2 ملازمین کے قلب پر حملے کے سبب فوت ہوگئے اور ناتجربہ کار ڈرائیورس کی وجہ سے کئی حادثات پیش آئے ہیں جن میں بھی کئی افراد اپنی زندگیوں سے محروم ہوگئے۔ تلنگانہ کی تحریک کے دوران کوئی بھی خودکشی کرتا تو ٹی آر ایس کے سارے قائدین اس کی آخری رُسومات میں پہنچ جاتے تھے، خودکشی کو ’’سرکاری قتل‘‘ قرار دیتے ہوئے نعشوں کی سیاست کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے لیکن آج آر ٹی سی ہڑتال کے دوران خودکشی کرنے والے ملازمین کے ساتھ چیف منسٹر بلکہ وزراء نے بھی کوئی ہمدردی نہیں جتائی اور نہ ہی ان کے ارکان خاندان کو پرسہ دینا مناسب سمجھا۔
علیحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد مخالفین تلنگانہ کو وزارتوں کے علاوہ دیگر اہم ذمہ داریاں اور اعزازات سے نوازا گیا اور مجاہدین تلنگانہ کو اس طرح سے نکال پھینکا گیا، جس طرح دودھ سے بال نکالا جاتا ہے۔ آر ٹی سی ایمپلائیز کی ہڑتال کو وزراء تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں جنہوں نے تلنگانہ تحریک میں کبھی حصہ لیا تھا، جس سے دلبرداشتہ ہوکر ملازمین خودکشی کیلئے مجبور ہورہے ہیں۔ 1967ء کی تلنگانہ تحریک میں اہم کردار ادا کرنے والے کے آر آموس جن کا حال ہی میں انتقال ہوا، چیف منسٹر نے انہیں بالکل نظرانداز کردیا جبکہ 2014ء میں وہ کانگریس کے ایم ایل سی تھے۔ تلنگانہ قانون ساز کونسل صدرنشین کے عہدے پر قبضہ کرنے کیلئے جن ارکان قانون ساز کونسل کو ٹی آر یس نے پارٹی وفاداریاں تبدیل کرنے کیلئے مجبور کیا تھا، ان میں اموس بھی شامل تھے مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جب کے آر آموس نے آخری سانس لی ، تب تک بھی چیف منسٹر نے اُن کے مکان پہنچنا اور انہیں خراج عقیدت پیش کرنا ضروری نہیں سمجھا جبکہ تلنگانہ کے خلاف بطورِ احتجاج راجیہ سبھا کی نشست سے مستعفی ہونے والے ہری کرشنا کے سڑک حادثہ میں ہلاک ہونے پر چیف منسٹر کے سی آر نے ان کی قیام گاہ پہنچ کر ارکان خاندان کو پرسہ دیا اور سرکاری اعزازات کے ساتھ اُن کی آخری رسومات انجام دی گئیں، یہی نہیں بلکہ شہر حیدرآباد میں ان کی یادگار قائم کرنے کا بھی اعلان کیا ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سنہرے تلنگانہ میں مجاہدین کو ٹھینگا دکھایا جارہا ہے اور مخالفین تلنگانہ کا ’’سُرخ قالین استقبال‘‘ کیا جارہا ہے۔
آر ٹی سی ملازمین کی ہڑتال سارے تلنگانہ میں موضوع بحث بنی ہوئی ہے۔ مرکز نے گورنر تلنگانہ تملی سائی سوندراراجن (Tamilisai Soundararajan) کو فوری دہلی طلب کیا ہے۔ گورنر نے وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ سے ملاقات کرتے ہوئے تلنگانہ میں آر ٹی سی ہڑتال اور ریاست کی سیاسی صورتحال پر ایک رپورٹ بھی پیش کردی ہے۔ یہی نہیں گورنر نے وزیر ٹرانسپورٹ اجئے کمار اور محکمہ ٹرانسپورٹ کے پرنسپل سیکریٹری سے بھی ہڑتال اور اس کے متبادل انتظامات پر رپورٹ طلب کی ہے۔ چندر شیکھر راؤ ہڑتال کے مسئلہ پر جس طرح سردمہری کا اظہار کررہے ہیں، اس سے کئی شبہات پیدا ہورہے ہیں۔ کہیں آر ٹی سی کو خانگی شعبہ کے حوالے تو نہیں کیا جارہا ہے۔ تلنگانہ بی جے پی کے صدر ڈاکٹر لکشمن نے جب انہیں شبہات کا اظہار کیا تو ریاستی وزیر ٹرانسپورٹ اجئے کمار نے فوری جواب دیتے ہوئے کہا کہ ریلویز کو خانگی شعبہ کے حوالے کرنے والی بی جے پی کو اس طرح کے شکوک کا اظہار کرنا زیب نہیں دیتا تو کیا یہ سمجھ لیا جائے کہ تلنگانہ حکومت بھی آر ٹی سی کو خانگی شعبہ کے حوالے کرنے پر سنجیدگی سے غور کررہی ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ بات بھی گشت کررہی ہے کہ ٹی آر ایس قائدین بشمول ارکان پارلیمنٹ کو آر ٹی سی کی اراضیات لیز پر دی جارہی ہیں۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ریونت ریڈی نے کہا کہ آر ٹی سی کے 85,000 کروڑ روپئے کی جائیدادوں پر چیف منسٹر کے سی آر کی بُری نظر ہے جس طرح سے ٹی آر ایس قائدین کو آر ٹی سی کی اراضیات لیز پر دی گئی ہیں، اس لحاظ سے ان الزامات کو تقویت پہنچ رہی ہیں۔
چیف منسٹر کا عوام کے تئیں رویہ ’’آمرانہ‘‘ نظر آرہا ہے کیونکہ دو دن آر ٹی سی ملازمین ڈیوٹی پر رجوع نہیں ہوئے تو اُنہیں ’’سیلف ریموول‘‘ قرار دیا گیا ہے۔ اس طرح چیف منسٹر بہت ہی کم سیکریٹریٹ پہونچے ہیں۔ اس کو کیا کہا جائے اور ساتھ ہی کبھی سیکریٹریٹ نہ پہونچنے والے چیف منسٹر 500 کروڑ روپئے کے مصارف سے نئے سیکریٹریٹ تعمیر کرنے پر بضد ہیں۔ چیف منسٹر ریاست کا سربراہ ہوتا ہے ۔ عوام کے دُکھ درد میں شامل ہونا اس کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ چیف منسٹر کے اسمبلی حلقہ گجویل میں اسکول بس ریلوے حادثہ کا شکار ہوگئی جس میں کئی معصوم بچے ہلاک ہوگئے۔ اس کے علاوہ ضلع جگتیال میں ایک بس کھائی میں گر گئی جس میں تقریباً 60 افراد ہلاک ہوگئے، ان دونوں حادثات پر چیف منسٹر نے صرف پریس نوٹ جاری کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا مگر وہ ہاسپٹل نہیں پہونچے اور نہ ہی متاثرین کے آنسو پونچھے ، لیکن جب ان کا نواسہ بیمار ہوا تو وہ فوراً ہاسپٹل پہونچ گئے ، بیٹی بیمار ہوئی تو ہاسپٹل پہنچ کر عیادت کی اور علاج کرنے والے ڈاکٹرس سے بات چیت کی، وبائی امراض سے سینکڑوں افراد دواخانوں میں زیرعلاج تھے مگر چیف منسٹر کے سی آر نے کسی کی بھی مزاج پرسی کرنا گوارا نہیں کیا۔ ’’واہ رے سنہرا تلنگانہ‘‘ کیا ہم ایسے تلنگانہ کی تمنا کرتے تھے۔ اگر یہ ریمارکس کئے جارہے ہیں تو اس میں کوئی قباحت نظر نہیں آتی، 2018ء کے عام انتخابات سے قبل چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے پرگتی بھون میں سرکاری ایمپلائیز اور ٹیچرس تنظیموں کے نمائندوں کا اجلاس طلب کیا تھا ، جس میں مختلف اُمور پر تبادلہ خیال کرنے کے بعد 2 جون 2018ء کو عبوری امداد اور 15 اگست 2018ء تک مکمل پی آر سی دینے کا اعلان کیا تھا۔ اس وعدے کے ایک سال بعد بھی اس پر عمل آوری نہیں کی گئی۔ ریاست میں جمہوری حکومت کا صرف دعویٰ کیا جارہا ہے مگر حقائق اس کے بالکل برعکس ہیں۔ سب سے پہلے عوامی آواز کو دَبانے کیلئے اپوزیشن جماعتوں کو کمزور کیا جارہا ہے۔ مختلف جماعتوں کے ٹکٹ پر کامیاب ہونے والے ارکان اسمبلی کو ٹی آر ایس میں شامل کرتے ہوئے اپوزیشن کو کمزور کیا جارہا ہے۔ اسمبلی میں حکومت ہی اپوزیشن اور حکمراں جماعت کا رول ادا کررہی ہے۔ ٹی آر ایس کے ارکان اسمبلی موافق حکومت سوالات کررہے ہیں اور وزراء اس کے جواب دیتے ہوئے حکومت کی ’’واہ واہ ‘‘کررہے ہیں۔ اگر اپوزیشن کوئی بھی سوال کرتی ہے تو مناسب انداز میں جواب دینے کے بجائے کانگریس کے دور حکومت کے فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے اُنہیں خاموشی بٹھایا جارہا ہے۔ علیحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے موقع پر تلنگانہ کے حصے میں 67,000 کروڑ روپئے کا قرض بھی ملا تھا، مگر گزشتہ 5 سال کے دوران تلنگانہ کا قرض بڑھ کر تقریباً 3 لاکھ کروڑ روپئے تک پہونچ گیا ہے۔ بدلے میں عوام سے جو بھی وعدے کئے گئے تھے، ان وعدوں میں ایک وعدہ بھی پورا نہیں کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر تلنگانہ کے غریب عوام سے 2014ء کے انتخابات میں ہی 2 لاکھ 75,000 ڈبل بیڈروم مکانات تعمیر کرکے دینے کا وعدہ کیا گیا تھا مگر ابھی تک 18,000 ڈبل بیڈروم مکانات بھی تقسیم نہیں کئے گئے، دلت طبقات میں فی خاندان 3 ایکر اراضی فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا اس پر بھی کوئی عمل آوری نہیں ہوئی۔ مسلمانوں کو 12% اور قبائیلی طبقات کو 12% تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا، اس پر بھی کوئی عمل نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ چیف منسٹر نے ہر گھر کو نل کے ذریعہ پانی سربراہ نہ کرپانے پر ووٹ نہ مانگنے کا وعدہ کیا تھا مگر اس کو بھی فراموش کرتے ہوئے قبل از وقت اسمبلی تحلیل کرتے ہوئے انتخابات کروائے گئے۔ اگر ان وعدوں کو یاد دلایا جاتا ہے تو حکمران جماعت انہیں ’’غداری ‘‘تصور کررہی ہے۔
چیف منسٹر نے اعلان کیا تھا کہ آئندہ پانچ سال کے دوران ریاست کا بجٹ بڑھ کر 5 لاکھ کروڑ روپئے ہوجائے گا ،مگر موجودہ صورتحال کو دیکھ کر یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ریاست کا بجٹ 5 لاکھ کروڑ روپئے کا ہو یا نہ ہو لیکن ریاست پر قرض کا بوجھ 5 لاکھ کروڑ روپئے تک ہوجائے گا۔ حالیہ بجٹ اجلاس میں حکومت نے عبوری بجٹ کی بہ نسبت موجودہ بجٹ میں 36,000 کروڑ روپئے کٹوتی کردی ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ تلنگانہ ریاست دو سال پیچھے ہوچکی ہے۔ دو سال قبل ریاست کا جو مجموعی بجٹ تھا، وہی بجٹ سال 2019-20ء کا ہوگیا ہے۔ اقلیتی بجٹ میں 800 کروڑ روپئے کی کٹوتی کردی گئی ہے۔ اپنے آپ کو ’’سکیولر‘‘ اور ’’اقلیتوں کے چمپین‘‘ قرار دینے والے چیف منسٹر کے سی آر کی زیرقیادت ریاست تلنگانہ میں دو مسجدوں کو شہید کردیا گیا ہے۔ سیکریٹریٹ کی دو مساجد پر اب بھی خطرے کے بادل منڈلاتے نظر آرہے ہیں۔ ’’واہ رے سنہرا تلنگانہ‘‘ کیا سوچے تھے اور کیا دیکھنے کو مل رہا ہے۔ ایک لاکھ سرکاری ملازمتیں دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، لیکن ابھی تک صرف 25,000 ملازمتیں ہی فراہم کی گئی ہیں،بیروزگار نوجوانوں کو ماہانہ 3,000 روپئے بیروزگاری بھتہ دینے کا وعدہ کیا گیا تھا جس پر اب تک عمل نہیں ہوا۔ سرکاری ملازمین کے وظیفہ پر سبکدوش ہونے کی عمر میں توسیع دے کر 61 سال کرنے کا وعدہ کیا گیا تھا، یہ وعدہ بھی آج تک دھرے کا دھرا ہے۔ انٹرمیڈیٹ امتحانات میں بے قاعدگیوں کے سبب 26 طلبہ نے خودکشی کرلی جس پر حکومت کی جانب سے ہنوز کوئی ردعمل نہیں آیا ہے۔٭