تحقیقات ضروری ۔ سوشیل میڈیا پر مختلف گوشوں کی جانب سے استفسارات نظر انداز
حیدرآباد18ستمبر(سیاست نیوز) اقلیتی اداروں بالخصوص تلنگانہ مائیناریٹیز ریسڈینشل ایجوکیشنل انسٹیٹیوشنس سوسائیٹی میں اقرباء پروری اور افراد خاندان کو فائدہ پہنچانے کے الزامات کی تحقیقات ہونی چاہئے کیونکہ اقلیتوں کیلئے مختص بجٹ کا بڑا حصہ اسی ادارہ پر خرچ کیا جا رہاہے اور اس ادارہ میں تعلیمیافتہ اور نااہل ملازمین کی متعدد شکایات کے باوجود کوئی کاروائی نہ کئے جانے اور موظف ملازمین کی خدمات کے معاملہ میں کئی مرتبہ توجہ دہانی کو نظرانداز کیا جاتا رہا ہے ۔ گذشتہ یوم صدر ٹمریز اے کے خان ‘ ان کے فرزند محسن خان کے علاوہ سمدھی محمد علی شبیر کے خلاف پنجہ گٹہ پولیس میں مقدمہ کے بعد پھر ٹمریز میں بدعنوانیوں و بے قاعدگیوں کا معاملہ سوشل میڈیا پر گشت کرنے لگا ہے ۔ سوال کیا جارہا ہے کہ کیوں اقامتی اسکول سوسائیٹی کا دفتر بنجارہ ہلز میں رکھا گیا اور کیوں زائد از 2لاکھ 75ہزار کا ماہانہ کرایہ اداکیا جا رہاہے! سوسائیٹی کے دفتر کو حج ہاؤز میں جگہ فراہم کرکے ماہانہ 2لاکھ 75 ہزار روپئے بچائے جا سکتے ہیں جو اقلیتوں کی فلاح و بہبود پر خرچ کئے جاسکتے ہیں ۔اس کے علاوہ ٹمریز کے اسکولوں میں سپلائی اور ٹنڈرس کے طریقہ کار پر بھی متعدد مرتبہ سوال اٹھائے جاچکے ہیں لیکن سوسائیٹی ذمہ داروں نے ان کے جواب دینے کی بجائے نظرانداز کردیا ہے۔ٹمریز کے صدر دفتر میں برسر کا عہدیداروں کے متعلق یہ بات عام ہے کہ جو صدر کے نور نظر ہیں انہیں ادارہ میں کام کا موقع ملتا ہے اور بعض ایسے عہدیدار بھی ہیں جن کی تعلیمی قابلیت مشتبہ ہے لیکن وہ تعلیمی امور کی نگرانی کر رہے ہیں اسی طرح بدعنوانیوں کے الزامات کا سامنا کرنے والے عہدیداروں کی اس ادارہ میں بازآبادکاری کے ذریعہ اقرباء پروری کی کوشش کی جار ہی ہے۔ تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے اقلیتوں کیلئے مختص بجٹ کا نصف کے قریب حصہ صرف اس ادارہ کے حوالہ کیا جا رہاہے اور اس کی کارکردگی کے متعلق غیر سرکاری تنظیموں کے ذمہ دار محض اس لئے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں کیونکہ اگر بدعنوانیوں کا نکشاف کیا جاتا ہے تو اقلیتوں کو تعلیمی نقصان کا خدشہ ہے جبکہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے ٹمریز کے معاملات میں کسی قسم کی لب کشائی نہ کرنے کی مختلف وجوہات بیان کی جاتی رہی ہیں لیکن اب یہ کہا جار ہاہے کہ ٹمریز کے امور اور معاملات کی تفصیلی جانچ کو یقینی بنایا جانا چاہئے تاکہ اقلیتی بجٹ کے درست استعمال کے ذریعہ اقلیتوں کو فائدہ پہنچایا جاسکے ۔م