اقلیتی اداروں میں غیر مجاز تقررات پر کام کرنے والوں کی اب خیرنہیں

   

حیدرآباد۔6۔ڈسمبر۔(سیاست نیوز) اقلیتی اداروں میں غیر مجاز تقررات پر راج کرنے والے عہدیدار و ملازمین کی اب خیر نہیں ! اس کے علاوہ انہیں تقررات کے احکام جاری کرنے والے عہدیداروں کے خلاف بھی کاروائی کی جاسکتی ہے۔بتایا جاتا ہے کہ نااہل افراد اورغیر تعلیم یافتہ افراد کو اہم عہدوں پر بغیر کسی اعلامیہ کی اجرائی کے ذریعہ تقررات فراہم کرنے والے عہدیداروں کے سلسلہ میں تفصیلات جمع کرتے ہوئے کی گئی شکایات پر اب عمل آوری کی جائے گی کیونکہ سابق میں حکومت کی جانب سے اقلیتی اداروں میں جاری بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں پر مکمل خاموشی اختیار کی گئی تھی اور محکمہ کی تباہی کے سلسلہ میں کی جانے والی شکایات کو نظرانداز کرتے ہوئے حکومت کے نورنظر عہدیداروں کی بات مانتے ہوئے کسی بھی نمائندگی کو خاطر میں نہیں لایا جارہا تھا ۔ ریاست میں اقتدار کی تبدیلی کے ساتھ ہی غیر مجاز طریقہ سے ملازمتیں حاصل کرنے والے نااہل عہدیدار جن کی تعلیمی قابلیت اور تقرر مشتبہ ہے وہ بھی اپنے بچاؤ کے لئے فکرمند نظر آرہے ہیں جبکہ محکمہ اقلیتی بہبود میں خدمات انجام دینے والے عہدیداروں کا کہناہے کہ ریاستی حکومت کی تشکیل کے بعد حکومت کی جانب سے جو احکام جاری کئے جائیں گے ان کے مطابق ان ملازمین کے خلاف کاروائی کی جائے گی جو غیر مجاز طریقہ سے ملازمت حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔چاپلوسی کے ذریعہ اپنی نااہلی کی پردہ پوشی کرتے ہوئے ملازمت میں برقراررہنے والے ملازمین کی برطرفی کے سلسلہ میں مختلف تنظیموں کے ذمہ داروں نے فوری طور پر شکایت کرنے اور اب تک کی گئی شکایات پر عدم کاروائی کی تفصیلات حکومت کو پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ان کی ملازمت کے دور کی مکمل جانچ کو بھی یقینی بنایا جاسکے تاکہ حقائق منظر عام پر آئیں۔