اقلیتی اسکالر شپ اور اوورسیز اسکالر شپ اسکیمات کیلئے بجٹ کی اجرائی غیر اطمینان بخش

   

اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا تاثر، جامعہ نظامیہ کی ڈگری تسلیم کی جائے۔ ایس سی ، ایس ٹی کے مماثل اقلیتوں کو مراعات کی سفارش

حیدرآباد۔/24 اگسٹ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز اسمبلی و کونسل کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے اقلیتوں اور پسماندہ طبقات کو اسکالر شپ اور دیگر اسکیمات کیلئے بجٹ کی اجرائی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے 2014 سے آج تک کے بجٹ کی منظوری ، اجرائی اور خرچ کے بارے میں متعلقہ محکمہ جات سے رپورٹس طلب کی تھی۔ کمیٹی نے حکومت سے سفارش کی کہ اسکالر شپ اور اوورسیز اسکالر شپ جیسی اسکیمات پر عمل آوری میں بجٹ کوئی رکاوٹ نہ بنے اور مقررہ وقت پر فنڈز کی اجرائی عمل میں لائی جائے۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس صدرنشین اکبر الدین اویسی کی صدارت میں منعقد ہوا۔ کمیٹی کے ارکان جی جے پال یادو، آر رویندر کمار، بی گنیش، جی کشور کمار، جی وٹھل ریڈی، پی سدرشن ریڈی، بی سریدھر بابو ، ایس وینکٹ ویریا، ایس راجو، سید امین الحسن جعفری اور ڈی راجیشور راؤ نے شرکت کی۔ محکمہ جات اقلیتی بہبود کے علاوہ ایس سی، ایس ٹی اور بی سی کے پرنسپل سکریٹریز اور اعلیٰ عہدیداروں نے کمیٹی کو گزشتہ سات مالیاتی سالوں میں اسکالر شپ، فیس بازادائیگی اور اوورسیز اسکالر شپ کی تفصیلات سے واقف کرایا۔ کمیٹی نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ حکومت کی جانب سے منظورہ بجٹ کے مطابق اجرائی نہیں ہے۔ محکمہ فینانس کی جانب سے جو بھی آر او جاری کیا جاتا ہے اس کے مطابق فنڈز جاری نہیں ہوتے۔ کمیٹی نے بجٹ میں مختص کردہ رقومات کی مکمل اجرائی کی سفارش کی۔ کمیٹی نے کہا کہ اوورسیز اسکالر شپ اسکیم کیلئے 10 ممالک کو شامل کیا گیا ہے جبکہ دیگر کئی ممالک میں موجود یونیورسٹیز میں طلبہ داخلہ کے خواہشمند ہیں۔ دیگر ممالک کی یونیورسٹیز کو بھی اسکیم کے دائرہ میں شامل کیا جائے۔ کمیٹی کے صدرنشین نے مصر اور دیگر عرب ممالک کی یونیورسٹیز کا حوالہ دیا اور کہا کہ جامعہ نظامیہ کے سرٹیفکیٹس کو اوورسیز اسکالر شپ اسکیم کے تحت قبول کیا جائے تاکہ جامعہ نظامیہ کے فارغین مصر، سعودی عرب اور دیگر ممالک کی یونیورسٹیز میں داخلہ حاصل کرسکیں۔ عہدیداروں نے بتایا کہ اوورسیز اسکالر شپ کے تحت دیگر ممالک کو شامل کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔ کمیٹی کا اجتماعی تاثر تھا کہ ویلفیر اسکیمات کیلئے بجٹ کی اجرائی کی صورتحال اطمینان بخش نہیں ہے۔ صدرنشین کمیٹی نے سوال کیا کہ 2015 سے اوورسیز اسکالر شپ اسکیم کا آغاز ہوا اور مجموعی طور پر 3000 طلبہ کو اسکالر شپ فراہم کی جانی چاہیئے تھی جبکہ حکومت نے 2500 طلبہ کو اسکالر شپ کی اطلاع دی ہے۔ انہوں نے مزید 500 طلبہ کے بارے میں وضاحت طلب کی۔ عہدیداروں نے اوورسیز اسکالر شپ کی درخواستوں میں تاخیر پر وضاحت کی کہ صرف ایک سال کی درخواستوں کی رقومات کی اجرائی باقی ہے۔ ارکان نے اقلیتی مالیاتی کارپوریشن میں زیر التواء 1.60 لاکھ زیر التواء درخواستوں کی یکسوئی کے بارے میں وضاحت طلب کی۔ ارکان کا کہنا تھا کہ اقلیتی طبقہ کے غریب اور مستحق افراد کو خودروزگار اسکیمات کے تحت قرض فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا لیکن عمل آوری کیلئے بجٹ جاری نہیں ہوا ہے۔ صدر نشین کمیٹی نے اسمبلی میں چیف منسٹر کے وعدہ کے مطابق اقلیتوں کو ہر شعبہ میں ایس سی، ایس ٹی کے مطابق مراعات کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ سچر کمیٹی، رنگناتھ مشرا کمیٹی اور سدھیر کمیٹی کی رپورٹس میں مسلمانوںکو دیگر طبقات سے زیادہ پسماندہ تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے ایس سی، ایس ٹی کے مطابق اقلیتوں کو مراعات کی فراہمی پر آئندہ اجلاس میں تفصیلی رپورٹ پیش کرنے عہدیداروں کو ہدایت دی۔ انہوں نے کہا کہ اوورسیز اسکالر شپ کیلئے ایس سی، ایس ٹی طبقات کیلئے عمر کی حد 35 سال مقرر کی گئی ہے جبکہ اقلیتی طلبہ کیلئے یہ حد 30 سال ہے۔ 2018 میں احکامات کی اجرائی کے باوجود عمل آوری نہیں کی گئی۔مختلف محکمہ جات نے 2014-15 سے 2021-22 تک بجٹ کی اجرائی اور خرچ کی تفصیلات سے کمیٹی کو واقف کرایا۔R