اقلیتی اسکولوں اور طلبہ کو دھمکانے کے واقعات تلنگانہ میں عام

   

برسر اقتدار پارٹی کو ووٹ نہ دینے پر اسکول بند کردینے کی وارننگ، نئے ووٹرس پر حکومت کی توجہ
حیدرآباد: 12 اکٹوبر (سیاست نیوز) اسمبلی انتخابات کے شیڈول کی اجرائی کے ساتھ ہی سیاسی پارٹیوں کو ووٹ حاصل کرنے کی فکر لاحق ہوچکی ہے۔ باشعور رائے دہندوں کی سطح پر مخالفت اور ناراضگی کو دیکھتے ہوئے تعلیمی اداروں میں موجود رائے دہندوں پر توجہ مرکوز کی جارہی ہے۔ اطلاعات کے مطابق برسر اقتدار پارٹی کی جانب سے اقلیتی تعلیمی اداروں کے طلبہ کو ترغیب دی جارہی ہے کہ وہ اسمبلی چنائو میں برسر اقتدار پارٹی کی تائید کریں۔ یہاں تک دھمکی دیئے جانے کی اطلاعات ہیں کہ اگر برسر اقتدار پارٹی کو ووٹ نہیں دیا گیا تو اسکولوں کو بند کردیا جائے گا۔ حکومت کی جانب سے قائم کردہ اقامتی اسکولس اور جونیئر کالجس کے علاوہ اقلیتوں کے خانگی تعلیمی اداروں کے طلبہ کو بی آر ایس کے حق میں ووٹ کی ترغیب دینے میں سیاسی قائدین کے علاوہ حکومت کے عہدیدار بھی شامل ہیں۔گزشتہ 9 برسوں کے دوران حکومت نے اقلیتوں کے لیے تعلیمی اور معاشی ترقی کی اسکیمات پر عمل آوری کا دعوی کیا ہے لیکن تعلیمی سطح پر نوجوان نسل کو حکومت سے مایوسی ہوئی۔ اسکالرشپ، فیس باز ادائیگی اور چیف منسٹر اوورسیز اسکالرشپ اسکیم کے بقایاجات کی عدم ادائیگی کے نتیجہ میں نہ صرف تعلیمی ادارں کو بند کرنے پر مجبور ہونا پڑا بلکہ طلبہ کا تعلیمی مستقبل دائو پر ہے۔ حکومت کو امید نہیں ہے کہ مجوزہ چنائو میں طلبہ اور نوجوانوں کی تائید بی آر ایس کے ساتھ نہیں رہے گی۔ لہٰذا تعلیمی اداروں پر بھی دبائو بنانے کی پالیسی پر عمل کیا جارہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اضلاع میں کئی مقامات پر برسر اقتدار پارٹی قائدین نے کھلے عام دھمکی دی ہے کہ اگر بی آر ایس کو ووٹ نہیں دیا گیا تو اسکولس بند کردیئے جائیں گے۔ ان دھمکیوں نے اسکولس کے ذمہ داروں اور طلبہ میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ 18 تا 19- سال عمر کے طلبہ کی تائید کے حصول پر بی آر ایس کی خصوصی توجہ ہے۔ ووٹ حاصل کرنے کے لیے طلبہ اور اسکولوں کو دھمکانا انتہائی غیر اخلاقی عمل ہے۔ عوام کو مذکورہ عناصر سے چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔