اقلیتی اقامتی اسکولوں میں غیر اقلیتی عملہ کے تقررات کے !لیے دباؤ

   

ریاستی وزیر اقلیتی بہبود کی بے جا مداخلت سے عہدیداروں کو مشکلات کا سامنا ، اسکولوں کا نظام ابتر ہونے کا اندیشہ
حیدرآباد۔2نومبر(سیاست نیوز) تلنگانہ اقلیتی اقامتی اسکولوں میں ریاستی وزیر اقلیتی بہبود اور ان کے عملہ کی مداخلت بیجا تلنگانہ اقلیتی ریسڈنشیل ایجوکیشنل انسٹیٹیوشنس سوسائیٹی کے عہدیداروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور ریاستی حکومت کی جانب سے چلائے جانے والے ان اداروں میں غیر مجازتقررات کیلئے انہیں مجبور کرنے کی کوشش کی جار ہی ہے۔ ریاستی وزیر اقلیتی بہبود مسٹر کے ایشور کے دفتر کے عملہ کی جانب سے سوسائیٹی کے عہدیدارو ںاور ملازمین پر دباؤ ڈالتے ہوئے کنٹراکٹ کے علاوہ عارضی بنیادوں پر تقررات کے لئے مجبور کرنے کی کوشش کی جار ہی ہے اور ایسا نہ کرنے پر انہیں سخت عواقب کا انتباہ دیا جا رہاہے۔ حکومت تلنگانہ کی جانب سے اقلیتی طلباء و طالبات کے لئے قائم کئے گئے اسکولوں میں عملہ کے تقرر کے سلسلہ میں کئے جانے والے اقدامات میں ریاستی وزیر اقلیتی بہبود کی جانب سے کی جانے والی مداخلت اسکولوں کے نظام کو ابترکرنے کا موجب بن سکتی ہے اور غیر اقلیتی عملہ کے تقرر کیلئے وزیر اقلیتی بہبود کے دفتر سے ڈالے جانے والے دباؤ کے متعلق سوسائیٹی کے عہدیدار چیف منسٹر کے دفترسے شکایت کے موقف میں بھی نہیں ہیں اسی لئے اس سلسلہ میں چیف منسٹر کے دفتر کو صورتحال سے واقف کروایا جاچکا ہے لیکن اس کے باوجود بھی کوئی کاروائی نہ کئے جانے کے سبب عہدیداروں میں مایوسی پائی جانے لگی ہے۔ بتایاجاتا ہے کہ مسلم منتخبہ عوامی نمائندے بھی سوسائیٹی کے دفتر پر وزیر اقلیتی بہبود کے عملہ کی جانب سے ڈالے جانے والے دباؤ سے واقف ہیں لیکن وہ بھی اس مسئلہ پر کچھ کہنے یا کرنے سے قاصر ہیں۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے اعلیٰ عہدیداروں کو اس صورتحال سے واقف کروائے جانے کے باوجود بھی حالات میں کسی قسم کا سدھار نہ آنے سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ریاستی حکومت کی جانب سے وزیر اقلیتی بہبود کو مکمل چھوٹ فراہم کی جارہی ہے جبکہ تلنگانہ ریسڈنشیل ایجوکیشنل انسٹیٹیوشنس سوسائیٹی کے عہدیدارو ںکا ماننا ہے کہ وہ وزیر اقلیتی بہبود کے دفتر سے سفارشی امیدوارو ںکو تقررات کی فراہمی کے حق میں نہیں ہیں اسی لئے چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو فوری اس معاملہ میں مداخلت کرتے ہوئے وزیر اقلیتی بہبود کی جانب سے کی جانے والی بیجا مداخلت اور دباؤ کا جائزہ لینا چاہئے تاکہ ان اقلیتی ادارو ںمیں من مانی تقررات اور سفارشی عملہ کے تقررات پر روک لگائی جاسکے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے محکمہ اقلیتی بہبود کے امور کو نظرانداز کئے جانے کے سبب وزیر اقلیتی بہبود کے دفتر میں خدمات انجام دینے والے عملہ کی جانب سے عہدیداروں کو ہراساں کرنے اور دباؤ ڈالنے کی شکایات موصول ہورہی ہیں ۔م