علماء کی مخالفت سے حکومت کو الجھن، وقف بورڈ کا وجود خطرے میں پڑسکتا ہے
حیدرآباد۔ 27 فروری (سیاست نیوز) اقلیتوں کی تعلیمی پسماندگی کے خاتمے اور غریبوں کو مفت معیاری تعلیم کی فراہمی کے لیے قائم کردہ اقلیتی اقامتی اسکولوں کے لیے وقف اراضی کے حصول کا معاملہ تنازعہ کا شکار ہوچکا ہے۔ حکومت نے تلنگانہ وقف بورڈ سے خواہش کی تھی کہ 50 اسکولوں کی تعمیر کے لیے شہر اور اضلاع میں وقف کی کھلی اراضی لیز پر حوالے کرے۔ حکومت کے خرچ پر اسکول کی عمارتیں تعلیم کی جائیں گی اور خانگی عمارتوں کی طرح کرایہ وقف بورڈ کو ادا کیا جائے گا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اوقافی اراضیات پر بڑھتے ناجائز قبضوں کے پیش نظر یہ فیصلہ اہمیت کا حامل ہوگا کیوں کہ اراضیات کا نہ صرف تحفظ ہوگا بلکہ وقف بورڈ کی آمدنی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ اقامتی اسکول سوسائٹی کے ذریعہ اس سلسلہ میں وقف بورڈ کو مکتوب روانہ کیا گیا لیکن بورڈ کے دو اجلاسوں میں اس مسئلہ کی یکسوئی نہیں ہوسکی اور ارکان میں اختلاف کے سبب الاٹمنٹ کا مسئلہ ٹال دیا گیا۔ بورڈ نے حکومت سے رپورٹ طلب کی لیکن حکومت اپنے طور پر جواب دینے کے بجائے اقامتی اسکول سوسائٹی سے معاملے کو رجوع کرنے کی ہدایت دے چکی ہے۔ وقف بورڈ کے عہدیدار اقامتی اسکول سوسائٹی سے تفصیلات حاصل کرنے کی تیاری میں مصروف ہیں، تو دوسری طرف علماء اور مشائخین کی تنظیم تلنگانہ وقف کنونشن نے وقف اراضیات حکومت کو الاٹ کرنے کی مخالفت کی ہے۔ وقف کنونشن کے ذمہ داروں مولانا قبول بادشاہ قادری شطاری، مولانا حسن ابراہیم حسینی، سجاد پاشاہ اور دیگر علماء و مشائخین نے اقامتی اسکولوں کے لیے اراضی کے الاٹمنٹ کو منشہ وقف کی خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اسکولوں کے لیے اراضی حکومت کو فراہم کرنی چاہئے۔ بجائے اس کے اوقافی اراضیات کو منشہ وقف کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش ازروئے شرع جائز نہیں ہے۔ علماء و مشائخین نے کہا کہ تلنگانہ حکومت کے عہدیداروں کو ایسے عمل سے باز رہنا چاہئے۔ علماء و مشائخین کی مخالفت میں حکومت کے لیے الجھن میں اضافہ کردیا ہے۔ حکومت چاہتی تھی کہ بورڈ کے اجلاس میں اکثریتی بنیاد پر رائے دہی کے ذریعہ اس معاملہ کی منظوری حاصل کی جائے لیکن علماء و مشائخین کی مخالفت کے بعد بورڈ میں منظوری عملاً دشوار ہوچکی ہے۔ واضح رہے کہ تلنگانہ وقف بورڈ میں حکومت کے نامزد کردہ ارکان کی اکثریت ہے
لیکن ان میں سے بعض ارکان حکومت کی حلیف جماعت کے دبائو کے تحت کام کرتے ہیں۔ لہٰذا بورڈ کے اجلاس میں اکثریتی ارکان کی تائید حاصل کرنا ممکن نہیں ہے۔ حکومت اپنے موقف پر اٹل ہے اور وہ وقف اراضیات پر اسکول عمارتوں کی تعمیر کے حق میں ہے۔ حکومت کے ذرائع نے بتایا کہ اراضی الاٹمنٹ کی مخالفت بورڈ کے وجود کو خطرہ پیدا کرسکتی ہے۔ حکومت کو اختیار ہے کہ وہ وقف ایکٹ کے تحت بورڈ کو ہدایت دے سکتی ہے۔ اگر بورڈ حکومت کی ہدایت کی تکمیل میں ناکام رہتا ہے تو اسے تحلیل کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ علماء و مشائخین کی مخالفت کے بعد حکومت نے قانونی ماہرین سے رائے طلب کی ہے۔ امکان ہے کہ اس مسئلہ پر حلیف جماعت کے قائدین سے بات چیت کی جائے۔