کمزور مالی موقف کا بہانہ، محکمہ فینانس کے اقدام پر عہدیدار حیرت زدہ ،چیف منسٹر کے دعوئوں پر سوالیہ نشان
حیدرآباد 2 ستمبر (سیاست نیوز) ملک بھر میں جاری معاشی بدحالی کا اثر تلنگانہ پر صاف دکھائی دے رہا ہے۔ تلنگانہ اسمبلی کا بجٹ اجلاس 9 ستمبر سے شروع ہوگا جس میں مالیاتی سال 2019-20ء کا بجٹ پیش کیا جائے گا۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو نے محکمہ فینانس اور دیگر محکمہ جات کے عہدیداروں کے ساتھ اگرچہ سالانہ بجٹ کو قطعیت دے دی ہے، تاہم مجوزہ بجٹ میں فلاحی اور ترقیاتی اسکیمات کے لیے بجٹ میں کمی کی جاسکتی ہے۔ ایس سی، ایس ٹی، بی سی اور اقلیتی طبقات کے لیے مالیاتی سال 2018-19ء میں جو بجٹ مختص کیا گیا تھا اس میں کمی کا فیصلہ کیا گیا۔ محکمہ فینانس نے بجٹ تجاویز کی روانگی سے قبل اس سلسلہ میں تمام محکمہ جات کو ہدایت دی تھی۔ محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے مجوزہ بجٹ میں 2212 کروڑ روپئے کی تجاویز پیش کی تھی لیکن محکمہ فینانس نے اس قدر بجٹ کی منظوری سے انکار کردیا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق محکمہ فینانس نے 2200 کروڑ کے بجٹ کو گھٹاکر 1200 کروڑ کردیا ۔ جبکہ 2018-19ء میں اقلیتی بہبود کا بجٹ 1998 کروڑ تھا۔ کمزور مالیاتی موقف کو دیکھتے ہوئے حکومت نے تمام محکمہ جات کے بجٹ میں کمی کا فیصلہ کیا ہے۔ ویسے بھی یہ بجٹ آئندہ چھ ماہ کے لیے رہے گا اور آئندہ سال مارچ میں نیا بجٹ منظور کیا جائے گا۔ حکومت نے جاریہ مالیاتی سال عبوری بجٹ کو منظوری دی تھی کیوں کہ ریاست کو انتخابات کا سامنا تھا۔ ذرائع کے مطابق محکمہ فینانس نے 2212 کروڑ کی تجاویز کو 1200 کروڑ کرنے کا مشورہ دیا جس پر محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں نے جائزہ اجلاس منعقد کرتے ہوئے محکمہ فینانس سے خواہش کی کہ کم از کم بجٹ کو گزشتہ سال کے مطابق 1900 کروڑ رکھا جائے۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ اگر بجٹ میں کمی کردی جائے گی تو اس سے اقلیتوں میں غلط پیام جائے گا اور اقلیتی بہبود کے بارے میں حکومت کی سنجیدگی پر سوال کھڑے ہوں گے۔ بھلے ہی بجٹ 1200 کروڑ جاری کیا جائے تاہم منظوری کے وقت بجٹ میں 1900 کروڑ تحریر کیے جائیں تاکہ اقلیتوں میں حکومت کے بارے میں کوئی تاثر پیدا نہ ہو۔ بتایا جاتا ہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود نے اقامتی اسکولس اور اوورسیز اسکالرشپ کے بجٹ میں کمی نہ کرنے کی خواہش کی ہے۔ محکمہ فینانس نے اقامتی اسکول کے بجٹ کو بڑی حد تک گھٹادیا تھا۔ عہدیداروں نے کہا کہ یہ دو اسکیمات ایسی ہیں جن کے لیے ہمیشہ بجٹ دستیاب رہنا چاہئے۔ اقامتی اسکول سوسائٹی تمام اضلاع میں نئی عمارتوں کی تعمیر میں مصروف ہے۔ ایسے میں بجٹ کی کمی سے تعمیراتی کام ٹھپ ہوجائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ محکمہ فینانس نے تعمیری سرگرمیوں کو موقوف کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ریاست کے مالی موقف کے اعتبار سے ہر محکمہ کو بجٹ منظور کیا جاسکے۔ درگاہ حضرت جہانگیر پیراںؒ ، انیس الغربا، مکہ مسجد، اسلامک سنٹر اور اقامتی اسکول کی نئی عمارتوں کی تعمیر جیسے امور کے لیے بجٹ کی اجرائی میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ جبکہ اسمبلی میں بجٹ کی پیشکشی کے لیے صرف 7 دن باقی ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ محکمہ فینانس اقلیتی بہبود کے لیے قطعی طور پر کتنا بجٹ مختص کرے گا۔ اقلیتی بہبود میں شادی مبارک وہ واحد اسکیم ہے جو گرین چینل کے تحت ہے اور درخواستوں کی منظوری کے ساتھ ہی محکمہ فینانس سے راست طور پر رقم جاری کردی جاتی ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو اقلیتی بہبود کے بلند بانگ دعوے کرنے سے نہیں تھکتے لیکن جاریہ مالیاتی سال بجٹ کے اعداد و شمار ان کے دعوے کی نفی کرتے ہیں۔ 1998 کروڑ کے بجٹ میں سے 1380 کروڑ جاری کیے گئے جبکہ 1214 کروڑ خرچ کیئے گئے ہیں۔ اس طرح جاریہ مالیاتی سال میں تقریباً 700 کروڑ کی اجرائی ابھی باقی ہے۔ محکمہ فینانس کے ریکارڈ کے مطابق 156 کروڑ کی اجرائی کے لیے احکامات تو جاری کردیئے گئے لیکن فینانس سے رقم جاری نہیں کی گئی۔ آئندہ سال اگر 1200 کروڑ مختص کیے جائیں گے تو اجرائی صرف 600 کروڑ کی ہوگی اور نصف بجٹ سرکاری خزانے میں واپس چلا جائے گا۔
