اقلیتی بہبود میں لاک ڈاؤن ، فلاحی اسکیمات پر عمل آوری ٹھپ

   

بجٹ کی عدم اجرائی ، عہدیداروںکی کمی، حکومت کو کوئی دلچسپی نہیں
حیدرآباد : تلنگانہ میں کورونا لاک ڈاؤن ختم ہوگیا اور تمام سرکاری محکمہ جات میں معمول کی سرگرمیاں بحال ہوگئیں لیکن محکمہ اقلیتی بہبود ابھی بھی لاک ڈاون میں دکھائی دے رہا ہے۔ لاک ڈاؤن کے اختتام کے باوجود محکمہ اقلیتی بہبود کی کارکردگی بحال نہیں ہوئی اور اقلیتی اداروں کی سرگرمیاں بدستور ٹھپ ہیں۔ حکومت کو اقلیتی اداروں کی کارکردگی اور خاص طور پر اقلیتی بہبود کی اسکیمات پر عمل آوری سے کوئی دلچسپی نہیں جس کے نتیجہ میں گزشتہ کئی ماہ سے جائزہ اجلاس تک طلب نہیں کیا گیا ۔ وزیر اقلیتی بہبود اور سکریٹری اقلیتی بہبود کی جانب سے اقلیتی اسکیمات کیلئے بجٹ کی اجرائی پر عدم توجہی کا نتیجہ ہے کہ اداروں کی کارکردگی ٹھپ ہوچکی ہے۔ اقلیتی اداروں کی بیشتر اسکیمات فنڈس کی کمی کے نتیجہ میں جاریہ مالیاتی سال شروع نہیں کی جاسکیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ایس سی ، ایس ٹی اور بی سی محکمہ جات میں نہ صرف فنڈس جاری کئے گئے بلکہ اسکیمات پر عمل آوری کا آغاز ہوچکا ہے۔ حکومت نے جاریہ مالیاتی سال ابھی تک اسکیمات کیلئے خاطر خواہ بجٹ جاری نہیں کیا۔ اقلیتی اداروں کو تنخواہیں اور دیگر اخراجات کیلئے رقم جاری کی گئی۔ اقلیتی اداروں کے عہدیدار اسکیمات کے سلسلہ میں خود کو بے بس محسوس کر رہے ہیں کیونکہ بجٹ کی اجرائی کے بارے میں ان کی سماعت کرنے والا کوئی نہیں۔ اقلیتی اداروں سے حکومت کی عدم دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اداروں پر فائز عہدیدار یا تو زائد ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہیں یا پھر اہلیت کے بغیر عہدے فراہم کردیئے گئے۔ قابل اور اہل عہدیداروںکی کمی کے نتیجہ میں اقلیتی بہبود کی اسکیمات سے کسی کو دلچسپی نہیں جس کا خمیازہ اقلیتوں کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ بیشتر اداروں میں ایک سے زائد ذمہ داری سنبھالے ہوئے عہدیدار ہیں،

جنہیں زائد ذمہ داریوں سے کوئی خاص دلچسپی نہیں۔ اقلیتی بہبود ڈپارٹمنٹ میں کبھی بھی قابل اور دیانتدار عہدیداروں کو برداشت نہیں کیا گیا ۔ وقف بورڈ میں جب کبھی دیانتدار عہدیدار فائز کئے گئے ، منصوبہ بند طریقہ سے ان کا تبادلہ کردیا گیا۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن اور اردو اکیڈیمی کی اسکیمات عملاً ٹھپ ہوچکی ہیں ۔ اس کے علاوہ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کے تحت اوورسیز اسکالرشپ اسکیم کیلئے گزشتہ دو برسوں سے حکومت نے بجٹ جاری نہیں کیا۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن کا کوئی پرسان حال نہیں ہے جہاں سے غریب اقلیتوں کے لئے کئی اسکیمات پر عمل کیا جاسکتا ہے۔ حکومت نے کسی ضمانت کے بغیر چھوٹے کاروبار کے لئے 50,000 روپئے تک امداد کی اسکیم کا اعلان کیا لیکن آج تک آغاز نہیں ہوسکا۔ اسی طرح نوجوانوں کو خود روزگار اسکیمات کے تحت گاڑیوں کی فراہمی کا اعلان کیا گیا تھا لیکن دوسرے مرحلہ کی اسکیم تعطل کا شکار ہے۔ فینانس کارپوریشن کے صدرنشین کی میعاد ختم ہوچکی ہے جبکہ مینجنگ ڈائرکٹر کے عہدہ پر مستقل عہدیدار موجود نہیں۔ کرسچن کارپوریشن کی مینجنگ ڈائرکٹر کو اقلیتی فینانس کارپوریشن کی زائد ذمہ داری دی گئی۔ جب تک کارپوریشن پر کوئی مستقل عہدیدار کا تقرر نہیں ہوتا ، اس وقت تک اسکیمات کا آغاز ممکن نہیں ہے۔ حکومت سے بجٹ حاصل کرنے کیلئے موثر نمائندگی کی ضرورت پڑتی ہے ۔ حکومت کے مشیر اور سکریٹری اقلیتی بہبود کی عدم دلچسپی کے نتیجہ میں محکمہ اقلیتی بہبود ایک طرف بجٹ تو دوسری طرف عہدیداروں کی کمی کا سامنا کر رہا ہے۔ ان دونوں عہدیداروں کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ حکومت کو بجٹ کی اجرائی کیلئے ترغیب دیں اور اداروں پر سنجیدہ عہدیداروں کا تقرر عمل میں لائیں۔ اگر موجودہ صورتحال جاری رہی تو جاریہ مالیاتی سال اقلیتی بہبود کا صفر کارکردگی سال بن جائے گا۔ کورونا کے پیش نظر حکومت معاشی بحران کا بہانہ بناکر فلاحی اسکیمات کے بجٹ کی اجرائی سے گریز کر رہی ہے ۔ دیگر طبقات کی فلاحی اسکیمات کے مقابلہ اقلیتی اسکیمات پر کوئی توجہ نہیں۔ معاشی کمزور موقف کا سلسلہ آگے بھی جاری رہے گا ، لہذا اقلیتی اداروں کیلئے بجٹ کی اجرائی کے امکانات موہوم دکھائی دے رہے ہیں۔ وزیر اقلیتی بہبود ، حکومت کے مشیر اور سکریٹری اقلیتی بہبود کو فوری اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس طلب کرتے ہوئے محکمہ کو متحرک بنانا ہوگا۔ اقلیتی اداروں میں مستقل اور اہل عہدیداروں کے تقرر کے ذریعہ اسکیمات پر عمل آوری کا آغاز کیا جاسکتا ہے۔