اقلیتی بہبود پر کے سی آر اور کے ٹی آر کو مباحث کا چیلنج: محمد علی شبیر

   

کانگریس کی اسکیمات کا نام بدل کر اقلیتوں سے دھوکہ دہی ، 12 فیصد تحفظات کا وعدہ بھول گئے

حیدرآباد۔ 17 ۔ ستمبر (سیاست نیوز) سابق وزیر اور قانون ساز کونسل کے سابق قائد اپوزیشن محمد علی شبیر نے اقلیتی بہبود کے مسئلہ پر چیف منسٹر کے چندر شیکھر راو کو کھلے مباحث کا چیلنج کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتی بہبود کے مسئلہ پر چیف منسٹر گمراہ کن بیانات کے ذریعہ اقلیتوں کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ کانگریس دور حکومت کی اسکیمات کا نام بدل کر کے سی آر اسے ٹی آر ایس کی اسکیمات قرار دے رہے ہیں۔ انہوں نے کانگر یس اور ٹی آر ایس دور حکومت میں اقلیتی بہبود کے اقدامات پر چیف منسٹر یا ان کے فرزند کے ٹی آر کو کھلے مباحث کا چیلنج کیا ۔ انہوں نے کہا کہ وہ پرگتی بھون آنے کیلئے بھی تیار ہیں تاکہ کانگریس دور حکومت کے اقدامات پر پاور پوائنٹ پریزینٹیشن پیش کریں۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ اگر چیف منسٹر مباحث سے خوفزدہ ہیں تو وہ کے ٹی آر یا وزیر بہبود کے ایشور کو روانہ کر یں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی بہت جلد اق لیتوں کو کے سی آر حکومت کی دھوکہ دہی پر تفصیلی رپورٹ جاری کرے گی ۔ جس کے ذریعہ ٹی آیس حک ومت کو بے نقاب کیا جا ئے گا۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ ا قلیتی بہبود کے قیام کا سہرا کانگریس پارٹی کے سر جاتا ہے ۔ 1993 ء میں آنجہانی وجئے بھاسکر ریڈی کی زیر قیادت حکومت نے محکمہ اقلیتی بہبود قائم کیا اور محمد علی شبیر ملک میں اقلیتی بہبود کے پہلے وزیر رہے۔ انہوں نے کہا کہ 1993-94 ء تین کروڑ بجٹ مختص کیا گیا تھا جو 2013-14 ء میں بڑھ کر ایک ہزار کروڑ کردیا گیا ۔ تلگو دیشم حکومت نے 1994-2004 ء کے درمیان بجٹ کو 33 کروڑ کیا تھا جبکہ کانگریس نے مزید اضافہ کرتے ہوئے 2014 ء تک ایک ہزار کروڑ کردیا ۔ انہوں نے مرکز میں یو پی اے حکومت نے وزارت اقلیتی امور کا 2006 ء میں قیام عمل میں لایا۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے سی آر کانگریس دور حکومت میں خرچ کی گئی رقم کا تقابل اپنے حکومت کی بجٹ سے کر رہے ہیں جو شرمناک ہے۔ کانگریس نے اگست 1994 ء میں مسلمانوں کو تحفظات کی فراہمی کا عمل شروع کیا تھا اور جی او نمبر 30 کے ذریعہ مسلمانوں اور کاپو طبقہ کو روزگار اور ملازمتوں میں تحفظات فراہم کئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ 4 فیصد موجودہ مسلم تحفظات بھی کانگریس کا کارنامہ ہے جبکہ کے سی آر نے 12 فیصد مسلم تحفظات کا اقتدار کے اندرون 4 ماہ تکمیل کا وعدہ کیا تھا لیکن 6 سال گزرنے کے باوجود وعدہ پورا نہیں ہوا ۔ کانگریس نے 6 نئے میڈیکل کالج قائم کئے جبکہ ٹی آر ایس نے صرف ایک کالج شروع کیا۔ اقامتی اسکولس کا قیام اقلیتوں کے لئے کالجس غریب لڑکیوں کی شادی پر امداد اور بینکوں سے مربوط سبسیڈی جیسی اسکیمات کانگریس کی شروع کردہ ہے جسے نام بدل کر ٹی آر ایس کریڈٹ لینا چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں وبائی امراض سے لوک پریشان ہیں۔ تاہم حکومت کو عوامی صحت کے تحفظ سے کوئی دلچسپی نہیں۔ پرگتی بھون کے کتے کی موت پر ڈاکٹر کے خلاف مقدمہ درج کیا کیا ۔ جبکہ ریاست میں ڈینگو سے کئی اموات وا قع ہوئی ہے لیکن چیف منسٹر نے ایک بھی جائزہ اجلاس منعقد نہیں کیا۔ ڈینگو سے اموات پر کس کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے ؟ انہوں نے کہا کہ پرگتی بھون کے کتے کی زندگی سے زیادہ عوام کی زندگی نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کے سی آر نے محکمہ طب کے بجٹ کو 1800 سے گھٹاکر 1300 کروڑ کردیا ہے۔ محمد علی شبیر نے ریاست میں میڈیکل ایمرجنسی کے اعلان کا مطالبہ کیا ۔