ڈرافٹ کمیٹی کا پہلا اجلاس، مذہبی اور سماجی تنظیموں سے ملاقات کا فیصلہ
حیدرآباد ۔21۔ اگست (سیاست نیوز) کانگریس پارٹی نے اسمبلی انتخابات کے لئے اقلیتوں کی تعلیمی ، سماجی اور معاشی ترقی پر مبنی جامع ڈکلیریشن کی تیاری کا آغاز کردیا ہے۔ مینارٹیز ڈکلیریشن ڈرافٹ کمیٹی کا آج گاندھی بھون میں صدرنشین محمد علی شبیر کی صدارت میں اجلاس منعقد ہوا۔ جنرل سکریٹری انچارج تلنگانہ مانک راؤ ٹھاکرے، سکریٹری اے آئی سی سی منصور علی خاں نے بطور خاص شرکت کی اور اقلیتوں فلاح و بہبود کے بارے میں کانگریس پارٹی کی سنجیدگی کا اعادہ کیا۔ اجلاس میں کنوینر ظفر جاوید کے علاوہ ارکان شیخ عبداللہ سہیل ، محمد اظہرالدین ، عظمت اللہ حسینی ، مولانا خسرو پاشاہ بیابانی ، عبید اللہ کوتوال ، دیپک جان ، عظمیٰ شاکر ، پروفیسر محمد ریاض ، محمد فہیم قریشی ، محمد راشد خاں اور ای بیروڈو گڈہ نے شرکت کی ۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مذہبی اور سماجی تنظیموں کے نمائندوں سے ملاقات کرتے ہوئے تجاویز حاصل کی جائیں گی۔ اقلیتی طبقہ کے دانشوروں اور اسکالرس سے بھی رائے حاصل کرتے ہوئے ڈکلیریشن میں شامل کیا جائے گا ۔ گاندھی بھون میں تجاویز حاصل کرنے کیلئے خصوصی ڈیسک قائم کیا جائے گا ۔ ڈکلیریشن کے علاوہ کانگریس کے انتخابی منشور میں وعدوں کو شامل کیا جائے گا ۔ مینارٹیز ڈکلیریشن ہر اقلیتی رائے دہندے کو گھر تک پہنچایا جائے گا۔ اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے اقلیتوں کو 4 فیصد تحفظات فراہم کئے جو آج بھی برقرار ہیں۔ کے سی آر نے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کا وعدہ کیا لیکن 9 برسوں میں کوئی پیشرفت نہیں کی گئی۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے استحکام پر کوئی توجہ نہیں دی گئی ۔ اجلاس میں اقلیتی بہبود کے علاوہ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کا جائزہ لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی کو بعض تجاویز موصول ہوئی ہیں جن پر آئندہ اجلاس میں غور کیا جائے گا ۔ مانک راؤ ٹھاکرے نے کہا کہ بی آر ایس حکومت عوام کے اعتماد سے محروم ہوچکی ہے۔ کرناٹک کی طرح تلنگانہ میں کانگریس کو اقلیتوں کی مکمل تائید حاصل ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے زیر دوران 4 فیصد تحفظات کے کیس میں کانگریس حکومت موثر پیروی کرتے ہوئے مسلم تحفظات کی برقراری کو یقینی بنائے گی۔