اسکیمات کیلئے مناسب فنڈس کی اجرائی کا امکان، گزشتہ سال 85 فیصد بجٹ خرچ ہوا
حیدرآباد: محکمہ اقلیتی بہبود نے ریاست کے بجٹ برائے مالیاتی سال 2021-22 ء میں اقلیتی اسکیمات کیلئے گزشتہ سال کی طرح 1344 کروڑ کی تجاویز روانہ کی ہیں اور امید ہے کہ حکومت گزشتہ بجٹ کے مطابق فنڈس منظور کرے گی ۔ ملازمین کی تنخواہوں کے علاوہ گزشتہ سال 1346 کروڑ اسکیمات کیلئے مختص کئے گئے تھے۔ اس مرتبہ 1344 کروڑ کی منظوری کے بارے میں عہدیدار پرامید ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت نے اقلیتی بہبود کیلئے تقریباً 1000 کروڑ جاری کئے جن میں 85 فیصد رقم خرچ کی جاچکی ہے۔ شادی مبارک اسکیم پر سب سے زیادہ بجٹ خرچ ہوا ہے۔ اوورسیز اسکالرشپ اسکیم کے علاوہ دیگر اسکیمات کیلئے بھی حکومت نے بجٹ جاری کیا۔ مالیاتی سال کے اختتام سے عین قبل ڈائرکٹر اقلیتی بہبود شاہنواز قاسم نے مزید بجٹ حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے ۔ وقف بورڈ ، مکہ مسجد ، ائمہ اور مؤذنین کا اعزازیہ اور اوورسیز اسکالرشپ کے لئے بجٹ جاری کیا گیا ہے ۔ تلنگانہ اسمبلی میں ریاستی بجٹ کل 18 مارچ کو وزیر فینانس ہریش راؤ پیش کریں گے ۔ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود نے مکہ مسجد کے ضروری امور کی تکمیل لئے 50 لاکھ روپئے جاری کئے ہیں ۔ رمضان المبارک کے پیش نظر مسجد میں انتظامات کیلئے فنڈس درکار تھے۔ اسی دوران سکریٹری اقلیتی بہبود کی جانب سے مکہ مسجد سے متعلق بعض اہم فائلوں کی عدم یکسوئی کے نتیجہ میں ائمہ اور ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کا معاملہ تعطل کا شکار ہیں۔ مکہ مسجد کے ایک امام کی میعاد میں توسیع کیلئے سفارش کی گئی تھی لیکن اس فائل کی عدم منظوری کے نتیجہ میں مذکورہ امام 10 ماہ سے تنخواہ سے محروم ہے۔ اس کے علاوہ مکہ مسجد اور شاہی مسجد کے خطیب ، ائمہ ، مؤذنین اور ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کیلئے ڈائرکٹر اقلیتی بہبود نے حکومت سے سفارش کی ہے لیکن حکومت نے اضافہ کو منظوری نہیں دی۔ اسی دوران دونوں مساجد کے ملازمین کو مستقل کے بجائے کنٹراکٹ ملازمین میں تبدیل کرنے کی کوششوں سے مسلمانوں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ مسلم عوامی نمائندوں کو اس جانب فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ حکومت بھونگیر کے یادادری مندر کی ترقی پر 1800 کروڑ خرچ کر رہی ہے جبکہ مندر کے پجاریوں کو سرکاری ملازمین کا پے اسکیل دینے کا اعلان کیا گیا لیکن حکومت دونوں بڑی مساجد کے ائمہ اور مؤذنین اور ملازمین کی خدمات کو مستقل بنانے کے لئے تیار نہیں ہے۔