اقلیتی بہبود کیلئے 3769 کروڑ مختص، ایس سی ، ایس ٹی طبقات کیلئے سب پلان

   

بی سی طبقہ کیلئے 12511 کروڑ ، ایس ٹی طبقہ کیلئے 7937 کروڑ کا منصوبہ ، راجیو یووا وکاسم پر 6000 کروڑ خرچ کا نشانہ
حیدرآباد ۔20 ۔ مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے اقلیتی بہبود کیلئے بجٹ میں 3769 کروڑ مختص کئے ہیں۔ جبکہ بی سی ویلفیر کیلئے 12511 کروڑ ، ایس سی ڈیولپمنٹ کیلئے 11784 کروڑ اور ایس ٹی ڈیولپمنٹ کیلئے 7937 کروڑ مختص کئے ہیں۔ ڈپٹی چیف منسٹر بھٹی وکرمارکا نے بجٹ تقریر میں کہا کہ تلنگانہ حکومت سماج کے تمام طبقات کے ساتھ اقلیتوں کی جامع اور یکساں ترقی کیلئے پرعزم ہے۔ اقلیتیں دیگر تمام طبقات کے ساتھ سماج کا ایک اہم حصہ ہے۔ اقلیتی خواتین کی مالی خود مختاری پر حکومت نے توجہ مرکوز کی ہے۔ غریب اقلیتی خواتین کے خود روزگار کو یقینی بنانے اور معاشی طور پر مستحکم کرنے کیلئے حکومت نے 10,000 سلائی مشین تقسیم کئے ہے۔ اقلیتی نوجوانوں کو بااختیار بنانے ، روزگار کی صلاحیتوں میں اضافہ اور بہتر ملازمت کی فراہمی کیلئے 14655 اقلیتی نوجوانوں کو اسکل ڈیولپمنٹ ٹریننگ فراہم کی گئی ۔ راجیو یووا وکاسم اسکیم کے تحت ایس سی ، ایس ٹی ، بی سی ا، اقلیت اور او سی طبقات کے نوجوانوں کو مالی امداد کی فراہمی کا فیصلہ کیا گیا۔ اسکیم کے تحت مختلف کارپوریشنوں کے ذریعہ امداد فراہم کرتے ہوئے کاروباری صلاحیتوں کو فروغ دیا جائے گا۔ اسکیم کیلئے بجٹ میں 6000 کروڑ مختص کئے گئے۔ حکومت نے ایس سی ، ایس ٹی سب پلان پر عمل آوری میں سنجیدگی کا اظہار کیا۔ حکومت کی تشکیل تک مالیاتی سال 2023-24 میں جو رقومات خرچ نہیں ہوپائیں ، انہیں گزشتہ سال کے بجٹ میں شامل کیا گیا۔ ایس سی کے لئے 13617 کروڑ اور ایس ٹی کیلئے 1317 کروڑ ۔ اس طرح جملہ 14934 کروڑ کے بقایہ رقومات گزشتہ سال کے بجٹ میں شامل کی گئیں۔ 2024-25 کیلئے ایس سی طبقہ کیلئے 7757 کروڑ اور ایس ٹی طبقہ کیلئے 1754 کروڑ مختص کئے گئے ۔ ملگ ضلع میں ٹرائبل یونیورسٹی کے قیام کا منصوبہ ہے۔ ریاست میں پسماندہ طبقات کی آبادی 56 فیصد ہے۔ پسماندہ طبقات کیلئے تعلیم ، اسکل ڈیولپمنٹ ، صنعتی ترقی اور روایتی پیشوں کے تحفظ کیلئے اقدامات کئے جائیں گے۔ حکومت نے جاریہ مالی سال کے مقابلہ 2026-27 میں مختلف طبقات کے بہبودی بجٹ میں اضافہ کیا ہے۔1