جاریہ سال اقلیتی اسکیمات پر 917 کروڑ کا خرچ، محکمہ جاتی مصارف کے تحت 775 کروڑ کے اخراجات، اقلیتی بہبود کے بجٹ پر اسمبلی میں حکومت کا بیان
حیدرآباد ۔25 ۔ مارچ (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت اقلیتی بہبود سے متعلق تمام وعدوں کی تکمیل کے اقدامات کر رہی ہے اور اقلیتی بہبود کی کئی اسکیمات پر عمل آوری کا آغاز ہوچکا ہے۔ تلنگانہ قانون ساز اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران مجلسی ارکان کے سوال پر حکومت کی جانب سے اقلیتی بہبود پر تحریری جواب پیش کیا گیا۔ حکومت نے کہا کہ راجیو یووا وکاسم اسکیم کے تحت بیروزگار نوجوانوں اور خواتین کو سبسیڈی کی بنیاد پر قرض فراہم کرنے کا منصوبہ ہے۔ ریاست کے 17000 ائمہ اور مؤذنین کو باقاعدگی کے ساتھ ماہانہ اعزازیہ ادا کیا جارہا ہے۔ وقف اراضیات کو امید پورٹل پر اپ لوڈ کرنے اور وقف اراضیات کے ریکارڈ کو ڈیجیٹلائیز کرنے کا کام جاری ہے۔ جواب میں کہا گیا کہ مسلمانوں اور عیسائی طبقہ کو قبرستان کیلئے اراضی الاٹ کی جائے گی۔ اقلیتوں کو بینکوں سے مربوط ایک لاکھ روپئے تک امداد کی فراہمی اسکیم کیلئے مالیاتی سال 2025-26 میں 840 کروڑ مختص کئے گئے۔ ضلع کلکٹرس کی جانب سے آن لائین موصولہ 216859 درخواستوں کی جانچ کی جارہی ہے۔ حکومت نے بتایا کہ مالیاتی سال 2025-26 کے دوران اقلیتی بہبود کی اسکیمات پر 917 کروڑ 82 لاکھ 84 ہزار کا بجٹ خرچ کیا گیا۔ حکومت کی 29 مختلف اسکیمات کیلئے جملہ 2844 کروڑ مختص کئے گئے اور 2273 کروڑ کی اجرائی عمل میں آئی۔ اقلیتی اداروں کے انتظامی مصارف کے تحت 741 کروڑ مختص کئے گئے اور 716 کروڑ کی اجرائی عمل میں آئی جبکہ خرچ 775 کروڑ کا ہوا ہے۔ اسکیمات اور محکمہ جاتی مصارف کے تحت جملہ 1692 کروڑ 83 لاکھ 8 ہزار روپئے محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت بجٹ خرچ کیا گیا۔ اسکیمات اور ادارہ جاتی اخراجات کیلئے مجموعی طور پر 3585 کروڑ مختص کئے گئے اور 2989 کروڑ کی اجرائی عمل میں آئی ہے۔ اسکالرشپ کے تحت ایک کروڑ 20 لاکھ خرچ کئے گئے۔ فیس بازادائیگی اسکیم کیلئے 300 کروڑ مختص کئے گئے جبکہ 68.7 کروڑ خرچ کئے گئے ۔ اوورسیز اسکالرشپ اسکیم کیلئے 130 کروڑ مختص کئے گئے اور دو برسوں کے بقایہ جات کے تحت 172 کروڑ جاری کئے گئے ۔ شادی مبارک اسکیم کیلئے 650 کروڑ میں 278 کروڑ خرچ کئے گئے ۔ اقلیتی بہبود کی دیگر اسکیمات کی اجرائی اور خرچ میں کافی کمی درج کی گئی ہے۔ اقلیتی اقامتی اسکولوں کیلئے 140 کروڑ مختص کئے گئے جبکہ 10.45 کروڑ خرچ کئے گئے۔ اقامتی اسکولوں کے ڈائیٹ چارجس کے طورپر 91.82 کروڑ خرچ کئے گئے ۔ مالیاتی سال 2024-25 میں اقلیتی بہبود کیلئے 2997 کروڑ مختص کئے گئے تھے جس میں 2750 کروڑ جاری ہوئے جبکہ خرچ 1602 کروڑ کا ہوا ہے۔ 2024-25 میں اسکیمات کے لئے 2256 کروڑ میں محض 961 کروڑ خرچ کئے گئے جبکہ محکمہ جاتی اخراجات کیلئے 740 کروڑ میں 641 کروڑ خرچ کئے گئے ۔ اس سال کے دوران بھی اسکیمات کیلئے بجٹ انتہائی کم خرچ کیا گیا۔ 2023-24 میں اقلیتی بہبود کا بجٹ 2195 کروڑ مختص کیا گیا اور اسکیمات اور محکمہ جاتی مصارف کے تحت جملہ 1755 کروڑ خرچ کئے گئے۔ اسکیمات کیلئے مختص کردہ 1599 کروڑ میں 1083 کروڑ خرچ کئے گئے۔ جاریہ سال 2025-26 میں اقلیتی بہبود کیلئے جملہ 3585 کروڑ مختص کئے گئے جبکہ بجٹ کا خرچ 1692 کروڑ رہا جس میں اسکیمات کیلئے 917 کروڑ خرچ کئے گئے جبکہ محکمہ جات مصارف کے تحت 775 کروڑ کا خرچ ہوا ہے۔1