اقلیتی بہبود کے بجٹ میں اضافہ کیلئے حکومت سے نمائندگی

   

وزیر اقلیتی بہبود کے ایشور کے پاس اعلیٰ سطحی اجلاس، جاریہ سال 400کروڑ کی اجرائی باقی

حیدرآباد۔/22 فبروری، ( سیاست نیوز) مالیاتی سال 2020-21 میں اقلیتی بہبود کے بجٹ میں اضافہ کیلئے حکومت سے نمائندگی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ بجٹ تجاویز کا جائزہ لینے کیلئے وزیراقلیتی بہبود کے ایشور نے اقلیتی اداروں کے سربراہوں کے ساتھ اجلاس منعقد کیا۔ سکریٹری اقلیتی بہبود احمد ندیم ( آئی اے ایس) حکومت کے مشیر اے کے خاں آئی پی ایس ( ریٹائرڈ) ، ڈائرکٹر اقلیتی بہبود شاہنواز قاسم ( آئی پی ایس ) سکریٹری اقامتی اسکول سوسائٹی بی شفیع اللہ ( آئی ایف ایس ) ڈائرکٹر سی ای ڈی ایم پروفیسر ایس اے شکور، چیف ایکزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ محمد قاسم، منیجنگ ڈائرکٹر اقلیتی فینانس کارپوریشن کانتی ویسلی اور دیگر عہدیداروں نے شرکت کی۔ باوثوق ذرائع کے مطابق مختلف محکمہ جات کو جاریہ سال بجٹ کی اجرائی میں سُست رفتاری دیکھتے ہوئے وزیر اقلیتی بہبود نے آئندہ مالیاتی سال کے بجٹ میں اضافہ کی تجویز پیش کی۔ جاریہ سال عبوری بجٹ میں اقلیتی بہبود کیلئے 2000 کروڑ مختص کئے گئے تھے بعد میں اسے گھٹا کر 1400 کروڑ کردیا گیا۔ حکومت نے تاحال 1000 کروڑ جاری کئے ہیں۔ کئی اقلیتی ادارے ایسے ہیں جن کو دوسرے سہ ماہی کا بجٹ جاری نہیں کیا گیا۔ 400 کروڑ کی اجرائی باقی ہے جس میں کئی اہم اسکیمات شامل ہیں جیسے ائمہ و موذنین کا اعزازیہ، شادی مبارک اور اوورسیز اسکالر شپ اسکیم ہیں۔ 2020-21 کیلئے بجٹ میں اضافہ کی تجویز ہے اس سلسلہ میں حکومت کو نوٹ پیش کیا جائے گا۔ حکومت سے خواہش کی گئی ہے کہ وہ جاریہ سال کے بقایا جات 400 کروڑ جاری کرے تاکہ اوورسیز اسکالر شپ اسکیم، شادی مبارک اور دیگر اسکیمات پر عمل آوری کی جاسکے۔ اوورسیز اسکالر شپ کے بقایا جات کے سبب طلبہ کو مشکلات کا سامنا ہے اور تاخیر کی صورت میں ان کے داخلے منسوخ ہوسکتے ہیں۔ محکمہ فینانس نے اس بات کا اشارہ دیا ہے کہ آئندہ سال کا بجٹ بھی جاریہ سال کے مطابق 1400 کروڑ ہی رہے گا۔ تاہم وزیر اقلیتی بہبود نے ایس سی اور اقلیت کیلئے 1000 کروڑ کے اضافہ کی تجویز پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس میں سے400 کروڑ اقلیتی بہبود کیلئے زائد منظوری کے طور پر ہوں گے۔ اجلاس میں دیکھا گیا کہ سکریٹری اقلیتی بہبود احمد ندیم نے مباحث میں حصہ نہیں لیا جبکہ ساری بریفنگ حکومت کے مشیر اے کے خاں کررہے تھے۔