اقامتی اسکول سوسائٹی کی آڈٹ کی ہدایت ، اقلیتی فینانس کارپوریشن غیر کارکرد، پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس
حیدرآبا 14 ۔ فروری (سیاست نیوز) تلنگانہ قانون ساز اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے اقلیتی بہبود کیلئے بجٹ کی اجرائی اور اسکیمات کے ٹھپ ہوجانے پر شدید برہمی کا اظہار کیا۔ کمیٹی نے اقلیتی اقامتی اسکول سوسائٹی میں بجٹ خرچ پر شفافیت پیدا کرنے سی اے جی کے ذریعہ آڈٹ کی سفارش کی۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا اجلاس صدرنشین اکبر اویسی کی صدارت میں آج اسمبلی کمیٹی ہال میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں اقلیتی بجٹ ، اسکیمات ، اسکالرشپ ، فیس ری ایمبرسمنٹ ، اوورسیز اسکالرشپ اسکیمات کے علاوہ مکہ مسجد و انیس الغرباء کامپلکس کے تعمیری کاموں کا جائزہ لیا گیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ کمیٹی نے حکومت کی جانب سے اقلیتی بہبود کیلئے مناسب فنڈس کی عدم اجرائی پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ بجٹ کی کمی کے باعث فلاحی اسکیمات ٹھپ ہوچکی ہیں۔ کمیٹی نے اقلیتی فینانس کارپوریشن و اقامتی اسکول سوسائٹی کی کارکردگی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ کئی برسوں سے اقلیتی فینانس کارپوریشن کی اسکیمات ٹھپ ہیں جن میں سبسڈی اسکیم اور اون یوور کار اور آٹو اسکیم شامل ہیں۔ کمیٹی صدرنشین نے کہا کہ قرض کی فراہمی کیلئے لاکھوں درخواستیں وصول کی گئیں لیکن انکی یکسوئی نہیں ہوپائی ۔ انہوں نے سکریٹری اقلیتی بہبود احمد ندیم سے وضاحت طلب کی۔ عہدیداروں کا کہنا تھا کہ حکومت سے بجٹ کی اجرائی پر اسکیمات پر عمل کا انحصار ہوتا ہے۔ کمیٹی نے اسکالرشپ و فیس ری ایمبرسمنٹ کی بروقت ادائیگی کی ہدایت دی۔ اوورسیز اسکالرشپ اسکیم کی رقومات کی اجرائی میں ایک سال تاخیر پر وضاحت طلب کی گئی جس پر عہدیداروں نے بتایا کہ عام طور پر امدادی رقم آئندہ سال جاری کی جاتی ہے تاکہ طلبہ بیرونی یونیورسٹیز میں داخلہ مکمل کرلیں۔ ذرائع کے مطابق کمیٹی نے حیرت کا اظہار کیا کہ حکومت کے تمام اقلیتی اداروں میں آڈٹ کی جاتی ہے لیکن اقامتی اسکول سوسائٹی میں کوئی آڈٹ نہیں ہے جس سے وسیع بے قاعدگیوں اور دھاندلیوں کے الزامات ہیں۔ صدرنشین نے کہا کہ سوسائٹی میں تقریباً 400 کروڑ روپئے اسکول عمارتوں کے کرایہ کے ادا کئے ۔ اس قدر خطیر رقم سے کئی نئی عمارتیں تعمیر کی جاسکتی تھیں۔ کمیٹی نے حکومت سے سفارش کی کہ ٹمریز کے اخراجات کی سی اے جی آڈٹ کرائی جائے۔ کمیٹی نے ٹمریز سکریٹری کی وضاحت کو قبول نہیں کیا۔ کمیٹی رکن سریدھر بابو نے سوسائٹی کی کارکردگی میں بے قاعدگیوں اور فنڈس کے بیجا استعمال کی شکایت کرکے سی اے جی آڈٹ کی تائید کی۔ کمیٹی حکومت کو رپورٹ پیش کریگی۔ کمیٹی نے مکہ مسجد تعمیری کاموں کی عاجلانہ یکسوئی کی ہدایت دی اور عہدیداروں کے دورہ پر عوامی نمائندوں کو اطلاع دینے کا مشورہ دیا۔ کمیٹی کو انیس الغرباء کی تعمیر کی پیشرفت سے واقف کرایا گیا ۔ وزیر اقلیتی بہبود کے ایشور اور کمیٹی صدرنشین اکبر اویسی کل 15 فروری کو انیس الغرباء کامپلکس کا معائنہ کریں گے۔ کمیٹی نے حج ہاؤز سے متصل زیر تکمیل کامپلکس پر وضاحت طلب کی جس پر عہدیداروں نے کہا اکہ اقلیتی بہبود دفاتر منتقل کرنے کا اعلان کیا گیا تھا لیکن حکومت سے کوئی پہل نہیں کی گئی ہے۔ کمیٹی نے مرکز سے گزشتہ تین برسوں میں 75 پراجکٹس کیلئے 1170 کروڑ کے حصول پر اطمینان کا اظہار کیا۔ کمیٹی نے کہا کہ اقلیتی بہبود سے متعلق امور پر حکومت کو سفارشات پیش کی جائیں گی۔ اجلاس میں کمیٹی کے ارکان ایس وینکٹ رمنا ، راجیشور ریڈی کے علاوہ سکریٹری اقلیتی بہبود احمد ندیم ، ڈائرکٹر اقلیتی بہبود شاہنواز قاسم ، سکریٹری ٹمریز شفیع اللہ اور دیگر شریک تھے۔ ر