اقلیتی طلبہ کیلئے پری میٹرک اسکالرشپ اور مولانا آزاد فیلوشپ کوبحال کیا جائے

,

   

سابق رکن راجیہ سبھا حسین دلوائی کا مطالبہ‘حکومت کے فیصلہ سے اقلیتوں کی شرح تعلیم میں مزیدکمی کا اندیشہ

نئی دہلی :کانگریس کے سینئر قائد حسین دلوائی نے مرکز سے مولانا آزاد نیشنل فیلوشپ کو بحال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ ملک بھر کے اقلیتی طلبہ کو اعلی تعلیم کی حصولیابی کے لیے دی جاتی رہی ہے۔ حسین دلوائی نے اقلیتی طبقے کے طلبہ کے لیے پری میٹرک اسکالرشپ اسکیم کو بھی بحال کرنے کی اپیل کی ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی کو لکھے ایک خط میں راجیہ سبھا کے سابق رکن دلوائی نے کہا کہ پری میٹرک اسکالرشپ میں اس سال سے ترمیم کی گئی ہے اور اسے صرف نوویں دسویں تا دسویں کے طلبہ کے لیے لاگو کیا گیا ہے، جبکہ مولانا آزاد فیلو شپ اسکیم کو بند کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دونوں فیصلے اقلیتی برادری کے طلبہ پر منفی اثر ڈالیں گے۔دلوائی نے کہا کہ اقلیتوں میں خواندگی کی شرح خاص طور پر بدھ مت کے ماننے والوں اور مسلمانوں میں موجود غربت کی وجہ سے نمایاں طور پر کم ہے۔ ان طبقات کے غریب والدین اپنے بچوں کو اسکولوں سے نکالنے پر مجبور ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لڑکیوں میں خواندگی کی شرح میں زبردست کمی آئے گی۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل اقلیتی طلبہ کو دی جانے والی مولانا آزاد فیلو شپ کے لئے یوجی سی نیٹ کی شرط لگائے جانے کی طلبہ تنظیمیں بھی مخالفت کرچکی ہیں۔ طلبہ تنظیموں کا کہنا ہے کہ نیٹ لاگو کرنا اس اسکیم کو بند کرنے کی سازش ہے۔ مرکزی وزارت برائے اقلیتی امور مسلم، بودھ، عیسائی، جین اور پارسی اور سکھ طبقے کے طلبہ کو مولانا آزاد فیلو شپ دیتا ہے۔طلبہ تنظیمیں کا کہنا تھا کہ غریب اقلیتی طلبہ کے لئے آزاد فیلو شپ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی آخری اور پہلی امید ہے۔ پہلے فیلو شپ میرٹ کی بنیاد پر دی جاتی تھی، لیکن اب یوجی سی نیٹ پاس کرنے کی شرط لگادی گئی ہے۔دلوائی نے کہا کہ چھ اقلیتی برادریوں کے لیے پری میٹرک اسکالر شپ میں پہلی سے آٹھویں جماعت کے طلبہ کو شامل کیا جانا چاہیے اور مولانا آزاد نیشنل فیلوشپ کو بحال کیا جانا چاہیے۔ پچھلے دنوں مرکزی وزارت برائے اقلیتی امور نے ایک اعلان کیا جس کے تحت اقلیتوں کے طلباو طالبات اب درجہ ایک سے آٹھ کے لئے پری میٹرک اسکالرشپ کے اہل نہیں رہیں گے اس اسکیم کو درجہ نو اور دس تک محدود کر دیا گیا ہے جو فوری طور پہ نافذ ہوگی اس سے پہلے سول سروس کی تیاری کرنے والے اقلیتی امیدواروں کے لئے جاری شدہ ’نئی اڑان‘ اسکیم ختم کی گئی تھی ۔ پری میٹرک اور نئی اڑان اسکالر شپ کے بعد اقلیتوں پہ تیسرا بڑا تازیانہ مولانا آزاد نیشنل فیلو شپ کو ختم کر کے لگایا گیا۔