حج کیمپ میں کیمروں کی تنصیب پر 4 لاکھ کی ادائیگی، ٹنڈر طلب نہیں کیا گیا،حج کمیٹی میں بجٹ کے بیجا استعمال پر حکومت چوکس
حیدرآباد 17۔ جولائی (سیاست نیوز) اقلیتی طلبہ کو اسکالرشپ ، فیس ری ایمبرسمنٹ ، اوورسیز اسکالرشپس، نوجوانوں کو قرض پر مبنی سبسیڈی کی فراہمی ، ائمہ و مؤذنین کا اعزازیہ اور دیگر اسکیمات کیلئے حکومت کے پاس فنڈس نہیں ہے لیکن تلنگانہ حج کمیٹی میں اگزیکیٹیو آفیسر کے چیمبر کی تیاری پر تقریباً 20 لاکھ روپئے خرچ کئے گئے اور بلز کو جاری کردیا گیا ۔ بتایا جاتا ہے کہ 9 علحدہ فرضی اداروں کے نام پر مختلف کاموں کے بلز تیار کئے گئے اور ان تمام کے پس پردہ عہدیداروں سے قربت رکھنے والے افراد کارفرما ہیں۔ مجموعی طور پر 1980454 روپئے کے خرچ سے صرف ایک چیمبر تیار کیا گیا جبکہ حکومت کے قواعد کے مطابق ایک لاکھ سے زائد کے کاموں کیلئے ٹنڈر طلب کیا جانا چاہئے ۔ مخصوص افراد کو فائدہ پہنچانے چیمبر کی تزئین نو کا کام نامینیشن کی بنیاد پر دیا گیا جو قواعد کی صریح خلاف ورزی ہے ۔ ایک عہدیدار کے چیمبر میں 19 لاکھ کے خرچ سے تعیشات اور سہولتوں کی فراہمی باعث حیرت ہے جبکہ مذکورہ عہدیدار شائد ہی چیمبر میں موجود رہتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ سکریٹریٹ میں چیف منسٹر کے سی آر کے چیمبر میں جو سہولتیں فراہم کی گئیں اس کا خرچ بھی شائد 20 روپئے نہیں ہوا ہوگا۔ حج کمیٹی کے اگزیکیٹیو آفیسر جو تلنگانہ اقلیتی اقامتی اسکول سوسائٹی کے سکریٹری ہیں، وہ زیادہ تر کام حج ہاؤز کی بجائے ٹمریز دفتر سے انجام دیتے ہیں۔ حج کیمپ میں بھی بہت کم یہ عہدیدار حج ہاؤز میں دکھائی دیئے اور وہ خود فریضہ حج کی ادائیگی کیلئے خانگی ٹراویلس سے روانہ ہوئے ۔ اگزیکیٹیو آفیسر کے چیمبر کی تزئین نو پر 19 لاکھ 80 ہزار 454 روپئے کا خرچ بتایا گیا جس میں چیمبر میں انہدامی کارروائی پر 61000 روپئے ، ٹائلز پر 241725 روپئے ، پینٹ اور لپم 150000 ، کرسیاں ، ٹیبل اور صوفہ 278480 ، باتھ روم 85800 ، دروازے 198000 ، پارٹیشن باکس میکنگ 499848 ، ایرکنڈیشنڈ 317601 اور فیانس ، لائٹس کی تنصیب پر 148000 روپئے خرچ کئے گئے۔ ان تمام کے علحدہ بلز تیار کئے گئے جن کی منظوری ہوچکی ہے ۔ اسی طرح حج کیمپ کے دوران سی سی کیمروں کی تنصیب کا کام بھی مخصوص ایجنسی کو دیا گیا جس نے جملہ 4.67 لاکھ روپئے کا بل پیش کیا۔ بتایا جاتا ہے کہ صدرنشین حج کمیٹی نے بل میں تخفیف کرکے 4 لاکھ کی منظوری دی ہے۔ 24 دن کیلئے 6 سی سی کیمرے نصب کئے گئے جن پر روزانہ 5400 روپئے چارجس کے حساب سے 129600 کا بل داخل کیا گیا۔ اسی طرح ایل ای ڈی اسکرین پر ٹیلی کاسٹ کیلئے موبائیل کیمرہ استعمال کیا گیا جس کیلئے روزانہ 3000 روپئے چارج کئے گئے۔ 16 دن کے 48000 روپئے کا بل داخل کیا گیا۔ سی سی ٹی وی کیمروں کے استعمال پر خانگی ایجنسی کو چار لاکھ روپئے کی ادائیگی پر عہدیداروں نے حیرت کا اظہار کیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ اس رقم میں حج کمیٹی سی سی ٹی وی کیمرے خود خرید کر ہر سال استعمال کرسکتی ہے لیکن مخصوص افراد کو فائدہ پہنچانے چار لاکھ روپئے ادا کئے گئے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومت نے عازمین حج کو بہتر سہولتوں کی فراہمی کیلئے جو بجٹ جاری کیا ، اس کا استعمال تعیشات و غیر ضروری امور پر کیوں کیا گیا۔ حج کیمپ میں ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ عازمین حج کو بہتر سہولتیں فراہم کی جاتیں ، برخلاف اس کے حج کیمپ کو تشہیر کا ذریعہ بنادیا گیا اور غیر ضروری سی سی کیمرے زائد تعداد میں نصب کرکے اپنے قریبی افراد کو فائدہ پہنچایا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ حج کیمپ اخراجات میں سی سی ٹی وی کیمروں پر چار لاکھ کے خرچ کا محکمہ اقلیتی بہبود نے نوٹ لیا ہے ۔ اس سلسلہ میں تلنگانہ حج کمیٹی سے وضاحت طلب کی جاسکتی ہے۔ گزشتہ تین برسوں سے فلاحی اسکیمات کیلئے بجٹ جاری نہیں کیا گیا جسکے نتیجہ میں غریب مسلمان پریشان ہیں۔ اقلیتی طلبہ کو فیس بازادائیگی سے محرومی کے نتیجہ میں تعلیم کے متاثر ہونے کا اندیشہ ہے ۔ بیرونی ممالک میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو تین سال سے اوورسیز اسکالرشپ جاری نہیں کی گئی ۔ اگرچہ مذکورہ اسکیمات کا حج کمیٹی سے تعلق نہیں ہے لیکن حکومت کے بجٹ کے استعمال پر سوال کرنے کا عوام کو اختیار حاصل ہے۔ جن اداروں کے پاس بجٹ نہیں وہ پریشان ہیں لیکن جن کے پاس بجٹ موجود ہے وہ اس کا غلط استعمال کرتے ہوئے اپنے تعیشات میں اضافہ پر توجہ دے رہے ہیں۔ ر