اقلیتی طلبہ کے اسکالر شپس کی عدم اجرائی پر ہائی کورٹ کی شدید برہمی

   

3 مارچ سے قبل جوابی حلف نامہ داخل کرنے محکمہ فینانس کو ہدایت
حیدرآباد۔29جنوری(سیاست نیوز) محکمہ اقلیتی بہبود کے لئے یہ بلز ہیں لیکن طلبہ کے لئے اسکالرشپس ’ان کی زندگی ہیں‘ ریاستی حکومت کے محکمہ اقلیتی بہبود پر تلنگانہ ہائی کورٹ نے اقلیتی طلبہ کے اسکالرشپس کی عدم اجرائی پر شدید برہمی کا اظہارکرتے ہوئے محکمہ فینانس کو ہدایت دی کہ وہ 3مارچ سے قبل جوابی حلف نامہ داخل کرے ۔ چیف جسٹس تلنگانہ ہائی کورٹ جسٹس اپریش کمار سنگھ اور جسٹس جی ایم محی الدین پر مشتمل بنچ نے اسٹوڈنٹس اسلامک آرگنائزیشن اور ASEEM نامی تنظیموں کی جانب سے داخل کی گئی درخواست مفاد عامہ کی سماعت کے دوران محکمہ اقلیتی بہبود کے تاخیر سے لمحۂ آخر میں جوابی حلف نامہ داخل کئے جانے پر بھی شدید برہمی کا اظہار کیا۔انہو ںنے محکمہ اقلیتی بہبود کو ہدایت دی کہ وہ طلبہ کے اسنادات روکے جانے کی شکایات وصول کرنے کے لئے خصوصی ہیلپ ڈیسک اور ٹول فری نمبر جاری کرے تاکہ طلبہ کو اپنے اسنادات کے حصول میں ہونے والی دشواریوں اور سرکاری احکامات پر عدم عمل آوری کے مرتکب کالج انتظامیہ کے خلاف شکایت کے لئے کوئی جگہ موجود رہے۔ تلنگانہ میں حکومت کی جانب سے ادا کی جانے والی اسکالرشپس بالخصوص اقلیتی طلبہ کے اسکالرشپس کے علاوہ فیس بازادائیگی اسکیم کی رقومات کی اجرائی میں ہونے والی تاخیر پر طلبہ کے اسنادات کالجس انتظامیہ کی جانب سے جاری کرنے سے انکار کیا جا رہاہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے پیروی کرنے والے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ گذشتہ یوم ہی انہوں نے جوابی حلف نامہ داخل کیا ہے جس میں اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ بلز محکمہ فینانس میں زیر التواء ہیں جس پرچیف جسٹس اپریش کمار سنگھ نے شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’محکمہ کے لئے یہ بلز ہوں گے لیکن طلبہ کے لئے زندگی ہے‘‘ انہو ںنے دو ہفتہ میں جوابی حلف نامہ داخل کئے جانے کی تاکید پر لمحۂ آخر میں سماعت سے ایک دن قبل جوابی حلف نامہ کے ادخال پر بھی برہمی کا اظہار کیا جس پر وکیل نے عدالت سے معذرت خواہی کی لیکن چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ ’’معذرت خواہی سے طلبہ کو ہونے والے نقصان کی پابجائی ہوجائے گی!‘‘محکمہ فینانس کے وکیل نے عدالت سے جواب داخل کرنے کے لئے وقت طلب کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ اقلیتی بہبود کا جوابی حلف نامہ ابھی حاصل ہوا ہے اور اس کا مشاہدہ کرنے کے بعد ہی وہ اپنا جوابی حلف نامہ داخل کرپائیں گے۔ چیف جسٹس اپریش کمار سنگھ اور جسٹس جی ایم محی الدین پر مشتمل بنچ نے طلبہ کو فیس کی بازادائیگی اور اسکالر شپس کی اجرائی میں ہونے والی تاخیر کے نتیجہ میں اپنے اسنادات کے لئے انسانی حقوق کمیشن اور عدالتوں سے رجوع پر مجبور کئے جانے پر بھی حیرت کا اظہار کیا کہ طلبہ پر کیوں مالی بوجھ عائد کرتے ہوئے انہیں عدالتی رسہ کشی کا شکار بنایا جا رہاہے!ASEEMنامی تنظیم کے علاوہ اسلامک اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی جانب سے داخل کئے گئے اس مقدمہ کی پیروی وکلاء جناب سید مونس جعفر عابدی ‘ اور جناب سید غیاث الدین نے کی ۔3