این جی اوز کے ساتھ اشتراک میں بے قاعدگیاں، فنڈز کا بیجا استعمال، ہر سال ایک لاکھ امیدواروں کو ٹریننگ کی ضرورت
حیدرآباد۔/12اکٹوبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت اقلیتوں کی معاشی ترقی اور خود روزگار اسکیمات کے تحت پیشہ ورانہ کورسیس میں تربیت کے ذریعہ روزگار کے مواقع فراہم کرنے اقلیتی فینانس کارپوریشن کو ذمہ داری دی ہے۔ کارپوریشن کے قیام کے بعد بینکوں سے مربوط سبسیڈی اسکیم کے علاوہ مشہور اداروں کے ذریعہ آئی ٹی اور دیگر ٹیکنیکل کورسیس کی ٹریننگ کا آغاز کیا گیا۔ گزشتہ سات برسوں کے دوران کارپوریشن کی ٹریننگ اینڈ ایمپلائمنٹ اسکیم کا مظاہرہ مایوس کن رہا۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ حکومت نے اسکیم کیلئے خاطر خواہ فنڈز جاری نہیں کئے جبکہ اعلیٰ عہدیداروں کے مطابق اسکیم کے میں شفافیت کی کمی اور مبینہ بے قاعدگیوں کے ذریعہ فنڈز کے بیجا استعمال کی شکایات کے بعد حکومت نے بجٹ کی اجرائی کم کردی ہے۔ ٹریننگ اینڈ ایمپلائمنٹ اسکیم کے تحت خانگی اداروں کا انتخاب کرتے ہوئے ان کے ذریعہ اقلیتی امیدواروں کو پیشہ ورانہ کورسیس کی تربیت دی جاتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں خانگی اداروں اور کارپوریشن کے ذمہ داروں کی ملی بھگت کے ذریعہ فنڈز کا بیجا استعمال کیا گیا اور کئی ایسے اداروں کا پتہ چلا جہاں امیدواروں کی فرضی فہرستوں کے ذریعہ ٹریننگ کی رقم پابندی سے حاصل کی گئی۔2014-15 سے 2020-21 تک اسکیم پر عمل آوری کے سلسلہ میں سرکاری اعداد و شمار کا جائزہ لیں تو سات برسوں میں محض 39700 امیدواروں کو تربیت دی گئی جس پر 27.36 کروڑ خرچ کئے گئے۔ کارپوریشن کے ذریعہ اگر اسکیم پر شفافیت اور سنجیدگی کے ساتھ عمل کیا جائے تو ہر سال کم از کم ایک لاکھ اقلیتی امیدواروں کو پیشہ ورانہ اور روزگار پر مبنی کورسیس میں تربیت دی جاسکتی ہے۔ حکومت کے پاس فنڈز کوئی کمی نہیں ہے اور اگر اسکیمات میں دھاندلیاں نہ ہوں تو سکریٹری اقلیتی بہبود اور محکمہ فینانس کو بجٹ جاری کرنے میں دشواری نہیں ہوگی۔ گزشتہ سات برسوں میں 40 ہزار طلبہ کو ٹریننگ کی فراہمی کا دعویٰ ہے لیکن اگر تفصیلات حاصل کی جائیں تو کئی اداروں کا فرضی ہونا ثابت ہوگا۔ گزشتہ برسوں میں کارپوریشن کے منیجنگ ڈائرکٹر نے ٹریننگ فراہم کرنے والے اداروں کے اچانک معائنہ کا فیصلہ کیا تھا۔ وہ جب ایک ادارہ کے دفتر پہنچے تو وہاں امیدوار نہیں تھے لیکن رجسٹر میں امیدواروں کے نام اور ان کی حاضری درج تھی۔ تحقیقات پر پتہ چلا کہ عہدیداروں کی ملی بھگت کے ذریعہ ٹریننگ کے فنڈز کو آپس میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اقلیتی نوجوانوں میں تعلیم کے ساتھ ہنر کی کمی کے باعث خانگی اداروں میں روزگار کے حصول میں دشواری ہورہی ہے۔ حکومت نے شہر کے مضافاتی علاقوں میں نیشنل اکیڈیمی آف کنسٹرکشن قائم کرتے ہوئے روزگار پر مبنی کورسیس میں تربیت کا آغاز کیا ہے۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن کی ٹریننگ ایمپلائمنٹ اسکیم کو نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کنسٹرکشن کے حوالے کیا جائے تو ہر سال حقیقی معنوں میں ہزاروں اقلیتی طلبہ کی ٹریننگ مکمل ہوسکتی ہے۔ کارپوریشن کے ذریعہ حیدرآباد، رنگاریڈی اور جگتیال میں بعض این جی اوز کے تعاون سے 10 کمیونٹی ٹریننگ پروڈکشن سنٹرس قائم کئے گئے جہاں غریب اور مستحق اقلیتی لڑکیوں، خواتین اور بیواؤں کو سلائی کی تربیت دی جارہی ہے۔ اس کے علاوہ بعض اداروں کے اشتراک سے سلائی مشینوں کی تقسیم عمل میں لائی گئی۔ شہر کے دو اسمبلی حلقہ جات میں اقلیتی طبقہ کے دھوبیوں میں استری ( آئرن ) تقسیم کی گئی۔ الغرض ٹریننگ اینڈ ایمپلائمنٹ کے تحت اقلیتی فینانس کارپوریشن کی اسکیم کو بے قاعدگیوں سے پاک بنانے کیلئے حکومت کو توجہ مبذول کرنی چاہیئے۔ کارپوریشن میں مستقل منیجنگ ڈائرکٹر اور تجربہ کار عہدیداروں کی کمی کے نتیجہ میں کارکردگی متاثر ہوئی ہے۔ر