اقلیتی مالیاتی کارپوریشن سے کاروبار کیلئے قرض کی اسکیم

   

جی ایس ٹی نمبر و نرخ ناموں کے ادخال کی شرط سے مشکلات

حیدرآباد۔27۔مئی ۔(سیاست نیوز) تلنگانہ اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کی جانب سے اقلیتی نوجوانوں کو کاروبار کیلئے قرض کی منظوری کے بعد اب درکار دستاویزات جمع کروانے کی ہدایا ت ملنے لگی ہیں لیکن ان دستاویزات میں جی ایس ٹی نمبر کے ساتھ نرخ ناموں کے ادخال کی شرط رکھی گئی ہے جس سے درمیانی افراد کی چاندی ہونے لگی ہے ۔ اگر حکومت جی ایس ٹی نمبر کے ساتھ نرخ ناموں ( کوٹیشن) کے ادخال کی شرط کو برخواست کرتی ہے تو قرض اسکیم ے استفادہ کنندگان کو فائدہ ہوگا کیونکہ کم سے کم جی ایس ٹی کی شرح 5 فیصد سے بھی اگر حساب لگایا جاتا ہے تو نرخ ناموں اور بلوں کیلئے نوجوانوں کو جی ایس ٹی کی رقم ادا کرنی پڑرہی ہے۔ کسی بھی کاروبار کے آغاز کیلئے ابتدائی مدد میں جی ایس ٹی جیسی شرائط نوجوانوں کیلئے مشکل بن رہی ہیں۔ جی ایس ٹی نرخ ناموں کیلئے انہیں جی ایس ٹی کی رقم ادا کرنی پڑرہی ہے ۔ دوسری جانب کارپوریشن سے جو رقم جاری کی جائے گی وہ دکاندار کے کھاتہ میں منتقل کی جائے گی جو کہ قرض حاصل کرنے والوں کیلئے مشکل کا سبب ہے۔ صدرنشین اقلیتی مالیاتی کارپوریشن اسحق امتیاز محکمہ اقلیتی بہبود اور حکومت کے ذمہ داروں سے مشاورت کرکے اس شرط کو برخواست کروانے یا ترمیم کرواتے ہیں تو اقلیتی نوجوانوں کو راحت کے علاوہ محکمہ اقلیتی بہبود کی مجموعی اعتبار سے 12تا14کروڑ کی رقم جی ایس ٹی میں ادا کرنے کی بجائے تجارتی ترقی میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔ ذرائع کے مطابق شہر کے ارکان اسمبلی کے علاوہ اضلاع کے ارکان اسمبلی نے بھی اس پر وزیر اقلیتی بہبود اور اقلیتی بہبود عہدیداروں کو مکتوب روانہ کرکے جی ایس ٹی بل اور جی ایس ٹی نرخ نامہ منسلک کرنے کی شرط کی مشکلات سے واقف کروایا اور دستبرداری کرنے کی خواہش کی۔ حکومت سے اگر اس میں رعایت کی جاتی ہے اور شرط سے استثنی دیا جاتا ہے ہیں تو فی کس 25 تا 40 ہزار روپئے کی رقم قابل استعمال بنائی جاسکتی ہے۔م