اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کے اسکیمات ٹھپ

   

محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کی عدم دلچسپی، عہدیداروں کی رکاوٹ
حیدرآباد۔31۔اگسٹ(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کی جانب سے ریاست کے اقلیتوں کے لئے تیار کی گئی پالیسیوں کو عملی جامہ پہنانے میں محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیدارو ںکی دلچسپی نہیں ہے یا عہدیدار نہیں چاہتے کہ ریاست میں اقلیتوں کی ترقی کو یقینی بنایا جائے! تلنگانہ ریاستی اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کے نئے صدرنشین جناب امتیاز اسحق کے جائزہ لینے کے بعد حکومت تلنگانہ نے اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کی ٹھپ اسکیمات کے احیاء کے لئے بجٹ کی منظوری دے دی ہے لیکن کارپوریشن اور ڈائریکٹوریٹ برائے تلنگانہ اقلیتی بہبود کی جانب سے کارپوریشن کی تجاویزکو منظور کرنے کے لئے حکومت کو روانہ کرنے کے اقدامات کے ذریعہ اسکیمات کے آغاز میں تاخیر پیدا کی جا رہی ہے جس کی وجہ سے کارپوریشن کی کارکردگی متاثر ہورہی ہے۔ نومنتخبہ صدر نشین جناب اسحق امتیاز کو عہدیدارو ںکی جانب سے تعاون حاصل نہ ہونے کی شکایات کے سلسلہ میں تحقیق پر اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ کارپوریشن میں مستقل نائب صدرنشین و منیجنگ ڈائریکٹر نہ ہونے کے علاوہ محکمہ اقلیتی بہبود کی مداخلت بیجا کی وجہ سے بینک سے مربوط قرضہ جات کی اجرائی کے سلسلہ میں وصول کردہ درخواستوں کی یکسوئی نہیں ہوپا رہی ہے۔حکومت نے ریاست میں اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے سلسلہ میں کئے گئے اعلانات اور ان پر عمل آوری کے درمیان عہدیدار رکاوٹ بن رہے ہیں اور محکمہ اقلیتی بہبود کے کسی بھی ادارہ میں مستقل عہدیدار نہ ہونے کے سبب بیشتر تمام اداروں کی کارکردگی متاثر ہوچکی ہے۔ کارپوریشن کی جانب سے بینک سے مربوط قرض کی اسکیم کے احیاء کے سلسلہ میں ریاستی حکومت کی جانب سے بجٹ کی اجرائی کے علاوہ دیگر اسکیمات کے لئے بجٹ کی اجرائی کے باوجود عہدیداروں کی جانب سے ان اسکیمات پر عمل آوری میں رخنہ اندازی کے متعلق کہا جا رہاہے کہ محکمہ اقلیتی بہبود میں خدمات انجام دینے والے عہدیدار اقلیت دشمنی ‘ مسلمانوں سے متعصبانہ رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں اسی لئے اسکیمات کے احیاء اور ان پر عمل آوری میں تاخیر ہورہی ہے جس کے نتیجہ میں ریاست بھر کے اقلیتی نوجوان حکومت کی اسکیمات سے محروم ہونے لگے ہیں۔ کارپوریشن میں خدمات انجام دینے والے ملازمین نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ حکومت کی جانب سے منظورہ اسکیمات کے لئے دوبارہ حکومت یا ڈائریکٹوریٹ سے کوئی منظوری حاصل کرنے کی ضرورت نہیں ہے لیکن اس کے باوجود عہدیدار اپنی مرضی کے مطابق خلاف قواعد اسکیمات پر عمل آوری میں رکاوٹ پیدا کررہے ہیں ۔ ذرائع کے مطابق چیف منسٹر کے دفتر کو بھی اس صورتحال سے آگاہ کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور کہا جا رہاہے کہ اب تک وزراء اور مشیران حکومت کو صورتحال سے واقف کروایا گیا لیکن کوئی کاروائی نہ ہونے کے سبب چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو واقف کروانے کا فیصلہ کیاگیا ہے۔