اقلیتی کمیشن کا اجلاس، 5 مختلف مقدمات کی سماعت

   

اوقافی جائیدادوں پرقبضوں کی شکایات، عہدیداروں کی طلبی
حیدرآباد۔/21 ڈسمبر، ( سیاست نیوز) تلنگانہ اقلیتی کمیشن کا اجلاس صدر نشین محمد قمر الدین کی صدارت میں منعقد ہوا۔جس میں 5 مقدمات کی سماعت کرتے ہوئے احکامات جاری کئے گئے۔ کمیشن کے رکن ایم اے عظیم کے علاوہ کمیشن کے مشیران اجلاس میں شریک تھے۔ وقارآباد کے دھارور موضع میں سروے نمبر 359 اور 360 کے تحت 2 ایکر 20 گنٹے اراضی قبرستان کیلئے بطور عطیہ پیش کی گئی۔ پٹہ دار امینہ بیگم نے یہ اراضی بطور عطیہ دی ہے۔ درخواست گذار نے کمیشن کو صورتحال سے واقف کرایا۔ سب انسپکٹر ڈی راجو بھی اجلاس کے روبرو حاضر ہوئے۔ نائب تحصیلدار اور سرویئر بھی کمیشن کے روبرو پیش ہوئے اور بتایا کہ مشترکہ سروے کا کام ابھی باقی ہے۔ کمیشن نے مشترکہ سروے جلد منعقد کرنے کی ہدایت دی۔ آئندہ سماعت کے وقت آر ڈی او وقارآباد، چیف ایکزیکیٹو آفیسر وقف بورڈ اور اسسٹنٹ ڈائرکٹر سروے کو موجود رہنے کی ہدایت دی گئی۔ محمد ابراہیم انصاری اور میر حسن علی خاں نے کمیشن سے شکایت کی کہ انہوں نے یاقوت پورہ کی ساکن خاتون کو 4 لاکھ روپئے فراہم کئے تاکہ لڑکی کی شادی کرسکے۔ اندرون گیارہ ماہ رقم کی واپسی کا معاہدہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ مکان کے کرایہ کے طور پر 15 ہزار روپئے ادائیگی کا وعدہ تھا لیکن تکمیل نہیں کی گئی۔ رین بازار کے سب انسپکٹر وی یوگیندر اجلاس کے روبرو پیش ہوئے اور کہا کہ اگر تحریری شکایت کی گئی تو پولیس مقدمہ درج کرنے کیلئے تیار ہے۔ معاملہ کی آئندہ سماعت 18 جنوری کو مقرر کی گئی۔ کمیشن نے جنگاؤں میں 3 ایکر 27 گنٹے اراضی کے معاملہ کی سماعت کی۔ اس کے علاوہ جگتیال ضلع میں اوقافی اراضیات پر ناجائز قبضوں کی شکایات کا جائزہ لیا گیا۔ نائب تحصیلدار ایم اے شاداب حکیم نے کمیشن کے روبرو اپنا موقف پیش کیا۔ اس معاملہ کی آئندہ سماعت 18 جنوری کو مقرر کی گئی ہے۔ یاچارم میں سروے نمبر 62 کے تحت 3 ایکر 22 گنٹے اراضی کے معاملہ کی سماعت کی گئی جس میں متعلقہ تحصیلدار آفس نے غیر مجاز شخص کا نام ریکارڈ میں شامل کردیا۔ نائب تحصیلدار یاچارم اجلاس میں شریک ہوئے۔ کمیشن نے آر ڈی او اور تحصیلدار کو پیش ہونے کی ہدایت دی اور نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت 18 جنوری کو مقرر کی۔