نئی دہلی ۔ 27 مئی (سیاست ڈاٹ کام) حکومت اقل ترین اجرت میں لازمی سالانہ اضافہ کو مؤخر کرسکتی ہے اور ایسی صورت میں خانگی شعبہ کے ساتھ ساتھ مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو 7,500 کروڑ روپئے کی سالانہ بچت ہوگی۔ ایک اعلیٰ سرکاری عہدیدار نے شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ ہم اس تجویز پر غور کررہے ہیں اور جلد فیصلہ کیا جائے گا۔ ایسے اقدام کی صورت میں زائد از 150 ملین ورکرس پر اثر پڑ سکتا ہے۔ حکومت کے اعدادوشمار کے مطابق ملک کی جملہ افرادی قوت کا 30 فیصد حصہ قانون اقل ترین اجرت کے تحت آتا ہے۔ قومی سطح پر موجودہ شرح 178 روپئے فی یوم ہے لیکن اقل ترین اجرت ریاستوں، شعبوں، کاریگری، خطوں اور پیشوں کے اعتبار سے بدلتے ہوئے 180 روپئے تا 430 روپئے فی یوم ہے۔ نظرثانی کی شرح بھی ہر ریاست کیلئے مختلف ہے۔