اقل ترین امدادی قیمت ختم کرنا مودی حکومت کا مقصد

   

کسانوں سے ایک لاکھ کروڑ روپے کمانے کا الزام :کانگریس
نئی دہلی: زراعت سے متعلق قانون بناکر حکومت کا مقصد اقل ترین امدادی قیمت ختم کرکے کسانوں کی محنت پر پانی پھیرتے ہوئے شانتا کمار رپورٹ کا نفاذ کرنا ہے اورکھیتی باڑی کرنے والے لوگوں سے ایک لاکھ کروڑ روپے کمانا ہے۔کانگریس ترجمان ابھیشیک منو سنگھوی اور دہلی ریاستی کانگریس کے صدر انل چودھری نے پریس کانفرنس میں کہا کہ حکومت نے شانتا کمار کمیٹی کی رپورٹ کو راست نفاذ نہیں کرکے اس قانون کے ذریعہ اس رپورٹ کو ایک سازشی طریقے سے نفاذ کرنے کا راستہ نکالا ہے۔حکومت کسانوں کی محنت پر پانی پھیرتے ہوئے اس کی کمائی سے ایک لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ حاصل کرنا چاہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت کسانوں کو سیکورٹی سرکل کی زیادہ ضرورت تھی اور حکومت کوانہیں سیکورٹی سرکل دینا چاہئے تھا۔ ان کے وعدوں کو نمٹانے کیلئے پہل کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ٹریبیونل بنایا جانا چاہئے تھا تاکہ اپنے وعدوں کا وہ وہاں پر آسانی سے نمٹا سکے۔ اسی طرح سے کسانوں کیلئے نیشنل ایگری کلچرل کمیشن کی تشکیل کی جانی چاہئے تھی لیکن ایسا کوئی قدم کسانوں کے مفاد میں اٹھانے کے بجائے ان کیلئے فائدہ مند انتظامات پر ہی قینچی چلادی گئی ہے۔کانگریس نے زرعی بلس کی منظوری کے خلاف ملک گیر تحریک کا آغاز کیا ہے اور وہ احتجاجی کسانوں سے 2 کروڑ دستخطیں حاصل کرے گی۔